9 ماہ میں لکی سیمنٹ لمیٹڈ کے منافع میں 292 فیصد اضافہ

کمپنی کا مجموعی ٹرن اوور 202.46 ارب روپے، خالص منافع 22.15 ارب روپے رہا، فی شیئر آمدن پچھلے سال کے 14.38 روپے کے مقابلے میں 56.36 روپے فی شیئر رہی

390

کراچی: لکی سیمنٹ لمیٹڈ نے 31 مارچ 2021ء کو ختم ہونے والی تین سہ ماہیوں کیلئے بعد از ٹیکس 22.15 ارب روپے کے مجموعی منافع کا اعلان کیا ہے۔

اس میں سے 3.93 ارب روپے کا تعلق اقلیتی شئیر ہولڈرز (نان کنٹرولنگ انٹرسٹ) سے ہے، کمپنی کی فی شیئر آمدن پچھلے سال کی اسی مدت کے 14.38 روپے کے مقابلے میں 56.36 روپے فی شیئر رہی۔ مجموعی طور پر کمپنی کا ٹرن اوور 202.46 ارب روپے رہا جو پچھلے سال کی اسی مدت کے 123.99 ارب روپے کے مقابلے میں 63 فیصد زیادہ ہے۔

زیر جائزہ مدت 2020-21ء کے 9 ماہ کے دوران کمپنی کا مجموعی خالص منافع (جو ہولڈنگ کمپنی کے مالکان سے منسوب ہے) میں گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 292 فیصد اضافہ ہوا، خالص منافع میں اضافہ کی بنیادی وجہ ہولڈنگ کمپنی کے سیمنٹ سیگمنٹ میں اضافہ تھا جس میں نارتھ ریجن کے پلانٹ کی نئی لائن سے زیادہ کاروبار اور بہتر افادیت کی وجہ سے تین گنا اضافہ ہوا۔

لکی موٹر کارپوریشن کے خالص منافع میں خاطر خواہ اضافہ بھی کمپنی کے مستحکم خالص منافع کی وجہ بنا جس کا ٹرن اوور پچھلے سال کے ٹرن اور کا 3.5 گنا رہا جبکہ سیلز ریوینیو کی وجہ سے کمپنی کے دیگر ذیلی اداروں میں شامل آئی سی آئی اور ایل سی ایل انویسمنٹ ہونڈنگز لمیٹیڈ کے منافع میں بھی اضافہ ہوا۔

انفرادی بنیادوں پر 2020-21ء کے 9 ماہ کے دوران لکی سیمنٹ کا مجموعی فروخت کا حجم 31.1 فیصد اضافے کے ساتھ 7.61 ملین ٹن تک پہنچ گیا۔ کمپنی کی مقامی فروخت پچھلے مالی سال کے اسی عرصے کے 4.11 ملین ٹن کے مقابلے میں 38.8 فیصد اضافے کے ساتھ 5.71 ملین ٹن رہی جبکہ برآمدی فروخت کا حجم پچھلے سال کے اسی مدت کے 1.69  ملین ٹن کے مقابلے میں 12.3 فیصد اضافہ کے ساتھ 1.90 ملین ٹن رہا۔

زیرِ جائزہ مدت کے دوران کمپنی کی پیزو پلانٹ میں نئی صلاحیت کی دستیابی اور نارتھ ریجن میں معاشی سرگرمیوں میں اضافہ کے باعث سیمنٹ کی طلب میں نمایاں اضافہ کی وجہ سے کمپنی کی مقامی فروخت کے حجم میں اضافہ ہوا جبکہ کمپنی کی برآمدی فروخت کے حجم میں اضافہ کی بنیادی وجہ کمپنی کی موثر حکمت عملی کی وجہ سے لوز(Loose) سیمنٹ کی برآمدات میں اضافہ تھا۔

انفرادی مالی کارکردگی کے لحاظ سے لکی سیمنٹ کی مجموعی فروخت کی آمدنی پچھلے مالی سال کے اسی عرصے کے 47.95 ارب روپے کے مقابلے میں 37.9 فیصد اضافہ کے ساتھ 66.13 ارب روپے رہی۔

نارتھ ریجن میں نئی پیداواری لائن سے حاصل شدہ حجم اور افادیت میں اضافہ کی وجہ سے کمپنی کی فی ٹن پیداوار ی لاگت میں بھی کمی ہوئی ہے۔  کمپنی کا بعد از ٹیکس خالص منافع  11.69 ارب روپے رہا۔ اسی طرح انفرادی بنیادوں پر کمپنی کی فی حصص آمدنی پچھلے سال کی اسی مدت کے 9.08 روپے کے مقابلے میں 36.14 روپے رہی۔

کمپنی نے خیبرپختونخوا میں براﺅن فیلڈ پلانٹ میں توسیع پر پیشرفت کی اطلاع دی ہے جس کی تکمیل کا ہدف دسمبر 2022ء رکھا گیا ہے جبکہ عراق کے شہر سماوا میں گرین فیلڈ پلانٹ نے کامیابی کے ساتھ آزمائشی پیداوار شروع کر دی ہے اور مارچ 2021ء سے تجارتی بنیادوں پر کام کا آغاز کر دیا ۔

اسی طرح پورٹ قاسم پر کوئلے سے بجلی پیدا کرنے والے سپر کریٹیکل پراجیکٹ پر 97.5 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے، تکمیل کی موجودہ سطح پر این ٹی ڈی سی کی جانب سے انٹر کنکشن سہولت کی دستیابی اور حکومت کے تعاون سے یہ منصوبہ مالی سال 2022ء (جولائی تا ستمبر2021) کے وسط تک کمرشل آپریشن شروع کر دے گا۔

لکی سیمنٹ نے تعلیم، خواتین کو بااختیار بنانے اور صحت عامہ سے متعلق معاملات میں اپنی مدد جاری رکھی اور معاشرے اور کمیونٹی کی ترقی کے عزم کا اعادہ کیا۔ کمپنی نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کووڈ 19 کی تیسری لہر سے انفیکشن کے تناسب میں اضافے کی پیشِ نظر اگر حکومت بڑے شہروں میں لاک ڈاﺅن نافذ کرتی ہے تو مختصر مدت میں سیمنٹ کی طلب متاثر ہو سکتی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here