کمزور ترین پاسپورٹ رکھنے والے ممالک میں پاکستان چوتھے نمبر پر

208

لاہور: پاکستان کے پاسپورٹ کو دنیا میں چوتھا کمزور ترین پاسپورٹ قرار دیا گیا ہے۔

ہینلے پاسپورٹ انڈیکس کے مطابق گرین پاسپورٹ صرف خانہ جنگی سے متاثرہ شام، دہائیوں سے جنگ زدہ افغانستان اور جنگ اور سیاسی عدم استحکام سے دوچار عراق سے کے بعد چوتھا کمزور ترین پاسپورٹ ہے۔

اس انڈیکس کے مطابق کسی ملک کے پاسپورٹ کی پوزیشن کا اندازہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ اس پاسپورٹ پر کتنے ممالک کا بغیر ویزہ سفر کیا جا سکتا ہے، اس کے علاوہ انٹرنیشنل ائیر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن سے حاصل کی گئی معلومات بھی استعمال کی جاتی ہیں۔ تاہم اس انڈیکس میں کورونا وائرس کی وجہ سے لگائی گئی عارضی سفری پابندیاں شامل نہیں کی گئی ہیں۔

انڈیکس کے مطابق جاپان کا پاسپورٹ دنیا کا مضبوط ترین پاسپورٹ ہے جس کے حامل افراد 193 ممالک میں بآسانی بغیر ویزہ سفر کر سکتے ہیں، دوسرے نمبر پر سنگاپور پاسپورٹ کے حامل افراد 192 ممالک تک رسائی رکھتے ہے۔ جرمنی اور جنوبی کوریا کا تیسرا نمبر ہے جو بالترتیب 191 ممالک تک آسان رسائی کے حامل ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ فوجی بغاوت کے باوجود انڈیکس میں میانمار کا 94واں نمبر ہے جو 47 ممالک تک رسائی رکھتا ہے جبکہ بھارت کا پاسپورٹ 84ویں اور بنگلہ دیش کا 100ویں نمبر پر ہے۔

چین کے پاسپورٹ پہلے 90 نمبر پر تھا تاہم 2021ء کے انڈیکس کے مطابق بہتری کی وجہ سے اب 68ویں نمبر پر ہے، اسی طرح متحدہ عرب امارات کا پاسپورٹ 65 سے بہتر ہو کر 15واں بہترین پاسپورٹ قرار پایا ہے۔

ہینلے پاسپورٹ انڈیکس کے پہلے دس ممالک میں اکثر یورپین یونین سے تعلق رکھتے ہیں، رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ برطانیہ اور امریکہ تنزلی سے ساتویں نمبر پر سویٹزر لینڈ، بیلجیم اور نیوزی لینڈ کے ساتھ چلے گئے ہیں۔

مضبوط ترین پاسپورٹ رکھنے والے ممالک میں اٹلی، فِن لینڈ، لگزمبرگ، فرانس، سپین، نیدرلینڈ، آئرلینڈ، سویڈن، مالٹا، یونان اور ناروے شامل ہیں۔ جاپان پہلے جبکہ افغانستان 167ویں نمبر پر ہے۔

دنیا کے دس کمزور ترین پاسپورٹ جن کے حامل شہریوں کو سب سے کم ممالک تک بغیر ویزہ رسائی میسر ہوتی ہے، ان میں افغانستان پہلے، عراق دوسرے، شام تیسرے پاکستان چوتھے، یمن اور صومالیہ پانچویں، فلسطین چھٹے، نیپال اور لیبیا ساتویں، شمالی کوریا آٹھویں، سوڈان، لبنان اور کوسوو نویں، ایران اور بنگلہ دیش دسویں نمبر پر ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here