طلب بڑھنے سے عالمی منڈی میں تیل کے نرخ 67 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئے

81

لندن: چین اور امریکہ کی معیشت میں بحالی کے اعشاریے مثبت ہونے سے تیل کی طلب میں اضافہ ہوا ہے جس کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 67 ڈالر فی بیرل سے زائد ہو گئی ہیں۔

سال 2021ء کی پہلی سہ ماہی کے دوران چین کی سالانہ ترقی کی شرح 18.3 فیصد تک بڑھی ہے، جبکہ امریکہ کی ریٹیل سیلز میں اضافہ اور بے روزگاری میں کسی قدر کمی دیکھ گئی ہے۔

آئل بروکر پی وی ایم سے تعلق رکھنے والے سٹیفن برینوک کا کہنا ہے کہ دنیا کی دو طاقتور اقتصادی قوتوں کے آؤٹ لُک میں بہتری آنے سے آئل مارکیٹ میں بھی بتدریج تیزی دیکھی جا رہی ہے اور وبا کے آغاز سے لے کر جو کمی دیکھنے میں آ رہی تھی وہ اب پوری ہوتی نظر آ رہی ہے۔

برینٹ کروڈ کی قیمتوں میں ہفتہ وار بنیادوں پر سات فیصد اضافہ ہوا ہے جو 0.26 ڈالر یا 0.4 فیصد کے اضافے سے 67.20 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکا ہے، ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت میں بھی ایک ہفتے میں کم و بیش 0.16 ڈالر یا 0.3 فیصد اضافہ ہوا ہے اور یہ 63.62 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچا ہے تاہم اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ اب بھی امریکی کروڈ انونٹریز 59 کروڑ بیرل تک گراوٹ کا شکار ہیں۔

دنیا میں سب سے زیادہ تیل پیدا کرنے والے ملک روس پر امریکی الیکشن میں مبینہ مداخلت کے نتیجے میں لگائی گئی نئی پابندیوں کے باعث بھی بین الاقوامی مارکیٹ پر اثرات مرتب ہوئے ہیں جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں۔

دوسری جانب کچھ بڑی معیشتوں میں کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز سے متعلق خدشات تیل کی طلب کو کم کر سکتے ہیں، بھارت میں کورونا وائرس کی شرح ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہے جبکہ جرمن چانسلر انجیلا مرکل نے کہا ہے کہ وائرس کی تیسری لہر نے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔

رواں کاروباری ہفتے میں تیل کی عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھنے کے حوالے سے انٹرنیشنل انرجی ایجنسی اور پیٹرولیم مصنوعات برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک دونوں نے سال 2021ء کے لیے تیل کی طلب میں اضافے کی پیش گوئی کی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here