سرکاری قرضے مشرق وسطیٰ اور وسط ایشیا کی معاشی بحالی میں رکاوٹ بن سکتے ہیں: آئی ایم ایف

اقتصادی بحالی کا عمل شروع ہو چکا ہے تاہم یہ ناہموار اور غیر یقینی ہے، بالخصوص اُن ملکوں کے لیے جہاں کورونا وائرس سے قبل کے بیش بہا قرضے اور دیگر مسائل ابھی تک موجود ہیں: عالمی مالیاتی فنڈ

301

دبئی: بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے تنبیہہ کی ہے کہ مشرق وسطیٰ اور وسط ایشیائی ممالک اپنے اخراجات میں کمی کریں بصورت دیگر کورونا وائرس کی وبا کے باعث بڑھ جانے والے ان ممالک کے حکومتی قرضے اقتصادی بحالی میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔

رائٹرز نے آئی ایم ایف کے شعبہ برائے مشرق وسطیٰ و وسط ایشیا کے ڈائریکٹر جہاد آزر کے گزشتہ روز جاری بیان کے حوالے سے بتایا ہے کہ موریطانیہ سے قزاکستان تک خطے میں 30 کے قریب ایسے ممالک ہیں جن کی اقتصادی ترقی میں 2020ء کی تیسری سہ ماہی کے دوران انسداد کورونا اقدامات کے باعث بہتری آئی۔

تاہم آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ صورت حال میں اب بھی انتہائی غیر یقینی برقرار ہے کیونکہ اس میں بہتری کا انحصار کورونا ویکسی نیشن کی رفتار، وبا سے متاثرہ شعبہ سیاحت کی بہتری اور مالیاتی پالیسیوں پر ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

رواں سال عالمی معاشی شرح نمو کیا رہے گی؟ آئی ایم ایف رپورٹ جاری

وبا کے باعث عالمی سیاحت کو 4.5 کھرب ڈالر کا نقصان، کروڑوں افراد بے روزگار

آئی ایم ایف کے مطابق ان علاقوں میں اقتصادی بحالی کا عمل شروع ہو چکا ہے تاہم یہ ناہموار اور غیر یقینی ہے، بالخصوص اُن ملکوں کے لیے جہاں کورونا وائرس سے قبل کے بیش بہا قرضے اور دیگر مسائل ابھی تک موجود ہیں۔

فنڈ کا کہنا ہے کہ کورونا ویکسی نیشن میں پہل کرنے والے خلیجی ممالک، قزاکستان اور مراکش کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) آئندہ سال تک 2019ء کی سطح پر پہنچ جائے گی جبکہ دوسرے ملکوں کو یہ مرحلہ طے کرنے میں مزید ایک سال کا وقت درکار ہو گا۔

علاقائی معاشی جائزے کے تناظر میں عالمی مالیاتی فنڈ کا کہنا ہے کہ زیادہ مالیاتی ضروریات پالیسی سازی کی گنجائش کم کر سکتی ہیں، مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقی ملکوں میں 2020ء میں وبا کے باعث مصنوعات کی طلب اور قیمتوں میں ہونے والی کمی ان کی آمدنی میں کمی کا باعث بنی جس سے ان کی مجموعی قومی پیداوار کے خسارے کی شرح 2019ء کی سطح 3.8 فیصد سے کم ہو کر گزشتہ سال 10.1 فیصد تک پہنچ گئی۔

عالمی  مالیاتی فنڈ کے مطابق بحران سے متاثرہ کئی ملکوں میں قرضوں میں اضافے کا رجحان بڑھا جسے وہ انسداد کورونا اقدامات کے لیے کر سکتے ہیں۔

آئی ایم ایف نے متنبہ کیا کہ آئندہ دو سال کے دوران عالمی سطح پر مالی ضروریات بڑھ سکتی ہیں بالخصوص ابھرتی منڈیوں میں 22۔2021ء میں اس کی ضرورت بڑھ کر 1.1 کھرب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے، جو 19۔2018ء میں 784  ارب ڈالر تھی، یہ مالیاتی عدم استحکام کی نشاندہی ہے جس سے اقتصادی ترقی کا عمل سست ہو سکتا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here