‘عوام کو دوسرا ریلیف پیکج دینے کیلئے آئی ایم ایف سے بات کریں گے’

ایک ایسے وقت میں جب معیشت بحال ہو رہی تھی اور تمام اعشاریے مثبت تھے، کورونا کی تیسری لہر کی وجہ سے معیشت کو بری طرح دھچکا لگا، وزیراعظم عمران خان

390

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی تیسری لہر کے منفی اثرات نے سروسز سیکٹر کو بری طرح متاثر کیا ہے اس لیے حکومت دوسرے ریلیف پیکج کیلئے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے پاس جائے گی۔

گزشتہ روز یونائٹڈ نیشنز ڈویلپمنٹ پروگرام (یو این ڈی پی) کی پاکستان نیشنل ہیومن ڈویلپمنٹ رپورٹ کے اجراء کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ وبا نے پوری دنیا کے سروسز سیکٹر کو متاثر کیا لیکن پاکستان کے سروسز سیکٹر پر شدید اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب معیشت بحال ہو رہی تھی اور تمام اعشاریے مثبت تھے، اس وقت کورونا کی تیسری لہر کی وجہ سے معیشت کو بری طرح دھچکا لگا، اب ساری صورت حال کا ازسرنو جائزہ لینا ہو گا۔ مستقل میں معاشی مشکلات کے پیش نظر ہم آئی ایم ایف سے بات کرنے جا رہے ہیں۔

اس موقع پر وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر سمیت یو این ڈی پی کے ریجینل ڈائریکٹر برائے ایشیا کانی وگناراجا (Kanni Wignaraja)، اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل، اسسٹنٹ ایڈمنسٹریٹر و دیگر موجود تھے۔

یو این ڈی پی کی پاکستان میں انسانی ترقی کے حوالے سے پائے جانے والے عدم مساوات پر رپورٹ ڈاکٹر حفیظ پاشا نے پیش کی، رپورٹ میں پاکستان میں قومی و صوبائی سطح پر پائی جانے والی عدم مساوات کی مختلف جہتوں کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

اپنے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کورونا وبا کی تیسری لہر اس کی پہلی اور دوسری لہروں کی نسبت کہیں زیادہ ہلاکت خیز ثابت ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کورونا وبا کے دوران حکومت پاکستان نے احساس پروگرام شروع کیا لیکن اس پروگرام کے تحت 22 کروڑ کی آبادی کیلئے صرف 8 ارب ڈالر کا پیکیج دے سکے، اس کے مقابلہ میں امریکی حکومت نے چار کھرب ڈالر کا پیکیج اپنے عوام کو دیا۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ “میرے خیال سے اب عوام کو ایک اور ریلیف پیکج دینا وقت کی ضرورت ہے اور اس کیلئے ہم آئی آیم ایف سے بات کریں گے۔”

انہوں نے کہا کہ یو این ڈی پی کی رپورٹ میں جن شعبوں میں کمی کی جانب اشارہ کیا گیا ہے اور جو لوگ خاص طور پر اقلیتیں اور خواجہ سرا کمیونٹی ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ گئے ہیں، ان کے حوالے سے رپورٹ کی روشنی میں پالیسیاں بنائی جائیں گی اور براہ راست ان کی مدد کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ کورونا وبا سے سب سے زیادہ غریب ممالک متاثر ہوئے، اس وبا کے دوران بعض امیر افراد امیر تر ہو گئے، دنیا کو سوچنا چاہئے کہ دولت صرف چند ہاتھوں تک محدود نہیں ہونی چاہئے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ غریب ممالک سے منی لانڈرنگ کے ذریعے سات کھرب ڈالر امیر ممالک میں منتقل کئے گئے، امیر ممالک دولت کی غیر قانونی منتقلی روکنے میں سنجیدہ نہیں ہیں۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ جب 2013ء میں خیبرپختونخوا میں اقتدار سنبھالا تو وہاں دہشت گردی اور غربت عام تھی، لوگ وہاں سے نقل مکانی کرکے اسلام آباد سمیت دیگر علاقوں میں آباد ہو رہے تھے، لیکن اب خیبرپختونخوا ترقی کی دوڑ میں پنجاب کے برابر ہے۔

انہوں نے کہا کہ عوام کو غربت سے نکالنا حکومت کی اولین ترجیح ہے، احساس پروگرام کے دوسرے مرحلہ میں اعدادوشمار جمع کر رہے ہیں، اس مرحلہ میں شہروں یا دیہات میں رہنے والے افراد کو، جنہیں افراط زر کا سامنا ہے، اشیائے خوردونوش پر براہ راست سبسڈی دیں گے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here