اکنامک ایڈوائزری کونسل کی تشکیل نو کی منظوری، شوکت ترین بھی ارکان میں شامل

وزیراعظم کونسل کے چئیرمین اور وزیر خزانہ وائس چئیرمین ہوں گے جبکہ سرکاری اور نجی شعبہ کے ممبران بھی شامل ہوں گے

236

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے اقتصادی مشاورتی کونسل (اے ای سی) کی تشکیل نو کی منظوری دے دی۔

یہ کونسل کلی معیشت کے استحکام کیلئے اقدامات کی سفارش کرے گی تاکہ پائیدار اور مضبوط اقتصادی ترقی کو یقینی بنانے کیلئے اصلاحات کے ایجنڈے کو آگے بڑھایا جا سکے۔

وزیراعظم کونسل کے چئیرمین اور وزیرخزانہ و محصولات وائس چئیرمین ہوں گے۔ وزیراعظم کی غیرموجودگی میں وزیر خزانہ کونسل کے اجلاس کی صدارت کریں گے۔ کونسل میں سرکاری اور نجی شعبہ کے ممبران شامل ہوں گے۔

سرکاری شعبے سے وزیر برائے توانائی، وزیر منصوبہ بندی، وزیر خوراک اور وزیر برائے اقتصادی امور کونسل کے رکن ہوں گے، اسی طرح وزیراعظم کے مشیر تجارت، مشیر برائے ادارہ جاتی اصلاحات، معاونین خصوصی برائے اوورسیز پاکستانیز،  پٹرولیم، پاور، ریونیو، چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ اور گورنر سٹیٹ بینک بھی کونسل کا حصہ ہوں گے۔

نجی شعبے سے عابد سلہری، عارف حبیب، آصف قریشی، اعجاز نبی، فاروق رحمت اللہ ، محمد علی ٹبا، ڈاکٹر راشد امجد، سلمان شاہ، شوکت ترین، ڈاکٹر شمشاد اختر، سلطان علانہ، سید سلیم رضا اور زید علی محمد شامل ہیں۔

اقتصادی مشاورتی کونسل حکومت پاکستان کے ساتھ مشاورتی و استعدادِکار میں اضافہ پر مبنی تعلقات کیلئے کام کرے گی۔ کونسل اقتصادی اداروں کے ساتھ مل کر اور ہم آہنگ انداز میں کام کرے گی۔

اقتصادی مشاورتی کونسل مشاورتی عمل کی پیروی کرتے ہوئے مالیاتی اوراقتصافی پالیسیوں کے شہریوں پر فلاحی اثرات میں اضافہ کیلئے پالیسی اقدامات کی سفارش کرے گی۔ کونسل کا بنیادی و حتمی ہدف تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے مضبوط تجزیاتی اور شواہد پر مبنی اصلاحات و اقدامات کو فروغ دینا ہے۔

وزارت خزانہ کونسل کیلئے مرکزی ایجنسی کے طور پر کام کرے گی۔ کونسل کی تشکیل نو کا مقصد پائیدار ادارہ جاتی اصلاحات اور سرکاری شعبہ کی جدت کے ضمن میں قیادت کے ویژن کے مطابق غیرجانبدارانہ انداز میں فعال اور معلومات پر مبنی بحث و مباحثہ کے بعد مضبوط پالیسی سازی، تجزیاتی موزونیت و نگرانی پر مبنی اقتصادی اصلاحات کی تدوین ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here