ڈیجیٹل پاکستان: ای بینکنگ ٹرانزیکشنز 24 فیصد اضافے سے 21.4 کھرب تک جا پہنچیں

موبائل فون ٹرانزیکشنز میں 192 فیصد اضافہ، مالیت 1.12 کھرب روپے تک بڑھ گئی، 2020ء کے اختتام تک ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈز رکھنے والے صارفین کی تعداد چار کروڑ 40 لاکھ سے متجاوز

274

اسلام آباد: رواں مالی سال 2020-21ء کی دوسری سہ ماہی (اکتوبر تا دسمبر) کے دوران ای بینکنگ ٹرانزیکشنز کی تعداد میں 24 فیصد جبکہ مالیت میں 22 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

سٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی رپورٹ کے مطابق اکتوبر تا دسمبر 2020ء کے دوران ای بینکنگ ٹرانزیکشنز کی تعداد 29 کروڑ 67 لاکھ تک بڑھ گئی جبکہ اس دوران ای بینکنگ ٹرانزیکشنز کی مالیت 21.4 کھرب روپے تک پہنچ گئی۔

اس طرح گزشتہ مالی سال 2019-20ء کے اسی عرصہ کے مقابلہ میں رواں مالی سال کی دوسری سہ ماہی میں ای بینکنگ ٹرانزیکشنز کی تعداد میں 24 فیصد جبکہ مالیت میں 22 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

ایس بی پی کے مطابق دوسری سہ ماہی کے دوران موبائل بینکنگ ٹرانزیکشنز میں 147 فیصد اضافہ ہوا اور ان کی تعداد ایک کروڑ 78 لاکھ کے مقابلہ میں چار کروڑ 40 لاکھ سے تجاوز کر گئی۔

رپورٹ کے مطابق بالحاظ مالیت موبائل فونز سے کی جانے والی ٹرانزیکشنز میں 192 فیصد اضافہ ہوا اور ان کی مالیت 382.5 ارب روپے کے مقابلہ میں ایک کھرب 12 ارب روپے تک بڑھ گئی۔

اسی طرح 31 دسمبر 2020ء کے اختتام تک ملک میں جاری کئے گئے پے منٹ کارڈز کی تعداد چار کروڑ 40 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔

سٹیٹ بینک کے اعدادوشمار کے مطابق سال 2020ء کے دوران دو کروڑ 76 لاکھ سے زائد صارفین کو ڈیبٹ کارڈ جاری کئے گئے جبکہ 17 لاکھ صارفین کو کریڈٹ کارڈ دیے گئے۔

رپورٹ کے مطابق بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام، ای او بی آئی اور دیگر حکومتی اداروں کی جانب سے سماجی فلاح و بہبود کے لئے جاری کئے گئے کارڈز کی تعداد 76 لاکھ ہے۔

ادھر جاری مالی سال کی دوسری سہ ماہی کے دوران ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈز کے ذریعے ڈیجیٹل ادائیگیوں کی سہولت فراہم کرنے والی پوائنٹ آف سیل مشینز (پی او ایس) کی تعداد میں 18 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

سٹیٹ بینک کے مطابق اکتوبر تا دسمبر 2020ء کے دوران پوائنٹ آف سیل مشینز کی تعداد 62 ہزار 480 تک پہنچ گئی۔ اس دوران ان مشینوں کے ذریعے 23 ملین ٹرانزیکشنز کی گئی ہیں جن کی مالیت 115 ارب روپے رہی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here