ریئل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹس میں سرمایہ کاری کیلئے قواعدوضوابط میں نرمی

بینکوں اور مالیاتی اداروں کو ریئل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹس میں اپنی ایکویٹی کی موجودہ حد 10 فیصد کی بجائے 15 فیصد تک سرمایہ کاری کی اجازت ہو گی، تعمیراتی سیکٹر کو فروغ ملے گا

374

کراچی : سٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے مکانات اور تعمیرات کے شعبوں کی ترقی کے لیے ریئل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹس میں بینکوں اور ڈویلپمنٹ فنانس انسٹی ٹیوشنز (ڈی ایف آئیز) کو سرمایہ کاری میں سہولت دینے کے لیے قواعدوضوابط میں نرمی کر دی ہے۔

مرکزی بینک کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق تعمیرات کے شعبے کو ترقی دینے کے حکومتی اقدامات کے تحت بینک دولت پاکستان اِن شعبوں میں بینکوں اور  مالیاتی اداروں کی جانب سے مالی وسائل کی فراہمی کے ذریعے شرکت بڑھانے کے لیے مختلف اقدامات کر رہا ہے۔

ان شعبوں میں سرگرمیوں کو مزید فروغ دینے کی غرض سے سٹیٹ بینک نے اب کارپوریٹ اور کمرشل بینکاری کے موجودہ قواعد کی بعض دفعات میں تبدیلی کر دی ہے تاکہ ریئل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹس میں بینکوں اور مالیاتی اداروں کی شرکت اور سرمایہ کاری کو بڑھایا جا سکے۔

ریئل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹس اثاثہ جاتی انتظام کی ایسی کمپنیاں ہیں جو پراپرٹی کے مختلف شعبوں میں آمدنی کمانے والی ریئل اسٹیٹ کی مالک ہوتی ہیں یا وہ ان کے لیے مالیاتی وسائل مہیا کرتی ہیں۔ اثاثہ جاتی انتظام کی یہ کمپنیاں مختلف قسم کے فنڈز جاری کر کے عوام اور اداروں سے رقوم جمع کرتی ہیں۔

یہ کمپنیاں ریئل اسٹیٹ جائیدادوں میں سرمایہ کاری کر کے اپنے فنڈز لگاتی ہیں جس سے مکانات اور تعمیرات کے شعبے میں سرمایہ کاری بڑھتی ہے اور اس طرح وہ معاشی نمو اور ترقی میں کردار ادا کرتی ہیں۔ لسٹڈ ریئل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹس کے یونٹس کی اسٹاک ایکسچینج میں خرید و فروخت ہوتی ہے اور سرمایہ کاروں کو کئی فوائد کی پیشکش کی جاتی ہے۔

اسٹیٹ بینک کے حالیہ اقدامات کے بعد بینک اور مالیاتی ادارے ریئل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹس میں زیادہ سرمایہ کاری کے قابل ہو سکیں گے اور اپنی ایکویٹی کی موجودہ 10 فیصد حد کے بجائے 15 فیصد تک سرمایہ کاری کر سکیں گے۔ اس طرح ناصرف ریئل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹس میں زیادہ سرمایہ آئے گا بلکہ بینک اور مالیاتی ادارے اپنی سرمایہ کاری کو متنوع بھی بنا سکیں گے۔

اس کے علاوہ لسٹڈ گروپ کمپنیوں کے شیئرز پر فنانسنگ حاصل کرنے کے بارے میں موجودہ ضوابط میں بھی اسٹیٹ بینک نے نرمی کر دی ہے۔ چنانچہ اب سرمایہ کار نئے کاروباری مواقع اور وینچرز میں مزید سرمایہ کاری کے لیے سیالیت (liquidity) بڑھا سکیں گے جس سے مزید اقتصادی سرگرمی پیدا ہو گی۔

سٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ قواعدوضوابط میں اِن تبدیلیوں سے کیپٹل مارکیٹ کو بھی فائدہ ہو گا، کمپنیوں کے سپانسرز کو ترغیب ملے گی کہ وہ اسٹاک ایکسچینج میں لسٹڈ ہونے پر غور کریں۔ اس طرح معیشت کی دستاویزیت، شفافیت اور کارپوریٹ نظم و نسق کی عمدہ روایات کو بھی فروغ ملے گا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here