نجی سیکٹر کے ذریعے ویکسین کی درآمد منسوخ کی جائے، ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کا وزیراعظم کو خط

590

لاہور: ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے وزیراعظم عمران خان سے درخواست کی ہے کہ وہ نجی سیکٹر کو کورونا ویکسین کی درآمد کی اجازت منسوخ کر دیں۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے وزیراعظم کے نام ایک خط میں لکھا ہے کہ شہریوں کو ویکسین فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے اور دنیا بھر کی حکومتیں کورونا سے بچائو کی ویکسین بالکل مفت لگا رہی ہیں۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کی چیئرپرسن جسٹس (ر) ناصرہ اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان نے باقی دنیا سے قبل ہی نجی سیکٹر کو ویکسین درآمد کرنے کی اجازت دے دی ہے جو ممکنہ طور پر اسے نجی ہسپتالوں میں مہنگے داموں فروخت کرے گا اور یوں کرپشن کا راستہ کھلے گا۔

واضح رہے کہ پاکستان نے ایک نجی کمپنی  کو روسی ویکسین سپوٹنگ فائیو کی درآمد کی اجازت دی ہے اور وفاقی کابینہ نے اس کی دو خوراکوں کی قیمت 8 ہزار 449 روپے جبکہ چین کی کونیویڈیسیا (Conividecia ) کے ایک انجکشن کی قیمت 422 روپے مقرر کی ہے۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کے خط میں کہا گیا ہے کہ دنیا بھر میں روسی ویکسین کی قیمت 10 ڈالر فی خوراک ہے جس کا مطلب ہے کہ دو خوراکیں 20 ڈالر میں ملیں گی۔

خط میں مزید کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر قیمت اور پاکستانی کرنسی کے فرق کو دیکھتے ہوئے سپوتنک فائیو پاکستان میں 1500 روپے میں ملنی چاہیے تاہم حکومت کی منظور کردہ قیمت 160 فیصد زیادہ ہے۔ ہمسایہ ملک میں اسی ویکسین کی قیمت 734 بھارتی روپے ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here