وفاقی کابینہ نے پاک روس گیس معاہدے میں ترمیم کی منظوری دے دی

167

اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے پاکستان اور روس کے مابین نارتھ- ساؤتھ گیس پائپ لائن (این ایس جی پی) پروجیکٹ پر بین الحکومتی معاہدے (آئی جی اے) کے ڈرافٹ پروٹوکول میں ترمیم کی منظوری دے دی۔

ذرائع کے مطابق پیٹرولیم ڈویژن نے معاہدے میں ترمیم کیلئے ایک سمری پیش کی جسے وفاقی کابینہ نے منظور کر لیا۔

باخبر ذرائع کے مطابق “جی آئی ڈی سی بورڈ نے رواں مالی سال کے لیے پروجیکٹ کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے فنڈز جاری کرنے کی منظوری دی ہے اور اس لیے گیس پائپ لائن کے نام پر ایک اکاؤنٹ بھی کھولا جا چکا ہے جبکہ ایک ڈرافٹ شئیرہولڈرز کا معاہدہ تیار کرکے روس کو بھیجا گیا ہے۔”

اسی طرح منصوبے کے حوالے سے تکنیکی مشاورت کے لیے نیسپاک کی خدمات حاصل کی گئی ہیں اور اسے پیپرا رولز سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔ مزید برآں سندھ حکومت کو زمین کی خریداری کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی جبکہ پنجاب حکومت کو ضلعی لحاظ سے زمین کی خریداری کرنے والے کلیکٹرز نامزد کرنے کی ذمہ داری تفویض ہوئی تھی۔

پٹرولیم ڈویژن نے سپریم کورٹ کے 13 اگست 2020ء کے فیصلے کی روشنی میں گیس پائپ لائن معاہدے کا مسودہ پیش کیا ہے جس پر کابینہ کمیٹی برائے توانائی نے پیٹرولیم ڈویژن کو ہدایت کی کہ معاہدے کی تکمیل کیلئے ٹائم لائنز پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے اور سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق گیس ڈویلپمنٹ انفراسٹرکچر سیس کو اس پروجیکٹ میں سپریم کورٹ کی ہدایات کی روشنی میں استعمال کیا جائے۔

بعدازاں پیٹرولیم ڈویژن نے معاہدے میں مخصوص ترامیم کیلئے روس کو بھی تجاویز دیں۔ دونوں ممالک نے معاہدے کے تکنیکی لائحہ عمل کو حتمی شکل دینے کے لیے اپنی اپنی تکنیکی کمیٹیاں تشکیل دیں اور معاہدے میں ترمیم کے لیے مذاکرات کیے گئے۔

اسی طرح اسلام آباد میں 18 نومبر 2020ء کو جوائنٹ روس پاکستان ٹیکنیکل کمیٹی (جے ٹی سی) کا 16واں اجلاس منعقد ہوا، علاوہ ازیں مختلف ویڈیو کانفرسنز کا انعقاد بھی کیا گیا۔ جے ٹی سی نے معاہدے کے پروٹوکولز میں ترمیم کو حتمی شکل دی جو فریقین کے متعلقہ سرکاری حکام کی منظوری سے مشروط ہے۔

اگرچہ روس کے ساتھ پائپ لائن منصوبے پر 16 اکتوبر 2015ء کو دستخط کیے گئے تھے لیکن دونوں حکومتیں پابندیوں سے آزاد اور تجارتی طور پر عملدرآمد کے لیے کسی مناسب لائحہ عمل پر متفق نہ ہو سکیں جس بنا پر گیس پائپ لائن منصوبے پر پیشرفت نہ ہو پائی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here