ایکنک نے 267 ارب روپے کے 12 ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دے دی

منظور شدہ منصوبوں کا تعلق صحت، مواصلات، آب پاشی، ڈیزاسٹرمینجمنٹ، لائیولی ہوڈ سپورٹ، ٹڈی دل کے خاتمے اور آبی وسائل سے ہے

316

اسلام آباد: قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی (ایکنک) نے 267 ارب روپے مالیت کے 12 ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دے دی۔ 

وفاقی وزیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی زیرصدارت ایکنک کا اجلاس منعقد ہوا، منظورشدہ منصوبوں کا تعلق صحت، مواصلات، آب پاشی، ڈیزاسٹرمینجمنٹ، لائیولی ہوڈ سپورٹ، ٹڈی دل کے خاتمے اور آبی وسائل سے ہے۔

ایکنک کی جانب سے 31.6 ارب روپے (200 ملین ڈالر) لاگت کے سے لوکسٹ ایمرجنسی اینڈ فوڈ سکیورٹی پروگرام کی منظوری دی گئی۔ اس پروگرام پر تمام صوبوں میں ٹڈی دل سے خوراک کے تحفظ کو درپیش خطرات کے حوالے سے اقدامات کیے جائیں اور عالمی بینک اس سلسلے میں معاونت کرے گا۔

یہ منصوبہ ڈیپارٹمنٹ آف پلانٹ پروٹیکشن (ڈی پی پی) کو مضبوط کرے گا اور تمام صوبوں کے پلانٹ پروٹیکشن ڈیپارٹمنٹس کی استدادِ کار بڑھانے کیلئے شروع کیا جائے گا اور اس کی تکمیل کا اندازہ تین سال لگایا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

پنجاب حکومت کا ہر ضلع میں انڈسٹریل اسٹیٹ قائم کرنے کا اعلان

سینٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی نے 36 ارب کے منصوبوں کی منظوری دیدی

پنجاب حکومت نے 16 ارب 53 کروڑ روپے لاگت کے تین ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دیدی

اجلاس میں ‘خیبرپختونخوا ہیومن کیپیٹل انویسٹمنٹ پروجیکٹ (ہیلتھ کمپونینٹ)’ سے متعلق سمری پیش کی گئی، 13.26 ارب روپے لاگت کے اس منصوبے کو عالمی بینک اور صوبائی محکمہ صحت مل کر فنڈنگ کریں گے۔

اس منصوبے کا مقصد خیبرپختونخوا کے چار اضلاع میں پرائمری ہیلتھ کئیر کی سہولیات کے معیار، استعمال اور دستیابی کو بہتر بنانا ہے، اس کی بدولت پانچ لاکھ مہاجرین اور 84 لاکھ مقامی شہریوں کو صحت کی سہولیات میسر آئیں گی۔

ایکنک اجلاس کے دوران ارکان نے تفصیلی بات چیت اور غوروخوض کے بعد منصوبے کی منظوری دے دی، صوبائی حکومت اس پر عملدرآمد اور اس کی تکمیل کی ذمہ دار ہو گی۔

ایکنک نے انڈس ہائی وے این-55 کے شکار پور تا راجن پور سیکشن پر دو اضافی لین تعمیر کرنے اور موجودہ دو لین پر مشتمل کیرج وے کی تعمیرومرمت سے متعلق ایک سمری کی منظوری دی، نیشنل ہائی وے اتھارٹی اس پر عملدرآمد کرائے گی۔ وزارتِ مواصلات اور ایشیائی ترقیاتی بینک مل کر اس منصوبے پر 44.7 ارب روپے خرچ کریں گے۔

مزید برآں ایکنک کے سامنے سمبڑیال تا کھاریاں (چار لین) 69 کلومیٹر طویل موٹروے کی تعمیر سے متعلق سمری پیش کی گئی۔ یہ ہائی سپیڈ ٹول روڈ کی سہولت سمبڑیال شہر سے شروع ہو کر لاہور- سیالکوٹ موٹروے پر ختم ہو گی۔ 43.38 ارب روپے کی لاگت سے یہ نئی موٹروے بی او ٹی کی بنیاد پر تعمیر کی جائے گی۔

ایکنک نے 20 ارب روپے مالیت کی چکدرہ سے فتح پور 80 کلومیٹر طویل سوات موٹروے (فیز ٹو) کی تعمیر کے لیے 10 ہزار کینال اراضی کی خریداری سے متعلق سمری کی منظوری بھی دی۔ کے پی حکومت اور خیبرپختونخوا ہائی وے اتھارٹی کے تعاون سے وفاقی حکومت کے سرکاری ترقیاتی پروگرام کے تحت اسے مکمل کیا جائے گا۔ کمیٹی نے کے پی حکومت کو ایسے منصوبوں کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ سے مکمل کرنے کی تجویز بھی دی۔

اس کے علاوہ سندھ کے مختلف علاقوں بشمول ملیر(کراچی)، جامشورو، ٹھٹہ، شہید بے نظیرآباد، سکھر، خیرپور، قنمبر شہداد کوٹ اور تھرپارکر میں قحط کے مسائل کو حل کرنے کے لیے چھوٹے ڈیموں کی تعیمر کے لیے سندھ ریزیلینس پروجیکٹ (اری گیشن کمپونینٹ) کی منظوری بھی دی گئی۔

سندھ کے محکمہ آب پاشی کی طرف سے منصوبے کی تکمیل اور اس کی سپانسرشپ کی جائے گی۔ سندھ حکومت منصوبے کی فنڈنگ میں 11.50 ملین ڈالر یا 7.5 فیصد حصہ ڈالے گی جبکہ 92.5 فیصد یعنی 141.51 ملین ڈالر قرض عالمی بینک سے لیا جائے گا، منصوبے پر مجموعی طور پر 153.01 ملین ڈالر (24.49 ارب روپے) لاگت آئے گی۔

اسی طرح، ایکنک نے ‘بلوچستان انٹی گریٹڈ واٹر ریسورسز مینجمنٹ اینڈ ڈویلپمنٹ پروجیکٹ’ کی منظوری بھی دی جسے بلوچستان کے محکمہ آب پاشی کے تعاون سے سپانسر اور تعمیر کیا جائے گا۔ منصوبہ زرعی پیداوار میں اضافہ، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور صوبے کے 11 اضلاع میں ایگری انڈسٹری کے فروغ میں مدد دے گا۔

منصوبے کی تکمیل کے لیے 96 فیصد فنڈز عالمی بینک کی طرف سے اور 4 فیصد فنڈز بلوچستان حکومت کی طرف سے دیے جائیں گے اور اس پر مجموعی طور پر 14.74 ارب روپے لاگت آئے گی اور اسے چھ سال کے عرصے میں مکمل کیا جائے گا۔

ایکنک نے بلوچستان میں آبی شعبے میں دریائے بسول پر ڈیم بنانے کی منظوری بھی دی۔ وزارتِ آبی وسائل کے تعاون سے 18.67 ارب روپے کی لاگت کے اس منصوبے کو صوبائی محکمہ آبپاشی کی جانب سے تعمیر کیا جائے گا۔

کمیٹی نے غوروخوض کے بعد دادو سندھ کے لیے (پی سی ون پر دوسری نظرثانی) کے ذریعے ‘نئی گاج ڈیم پروجیکٹ’ کی منظوری بھی دی جس پر 46.98 ارب روپے کی لاگت آئے گی۔ واپڈا اور سندھ کا محکمہ آب پاشی منصوبے کی تکمیل کریں گے۔

اس منصوبے کا بنیادی مقصد دریائے سندھ میں سیلاب کے پانی کو کو محفوظ کرنا اور 4.2 میگاواٹ بجلی پیدا کرنا ہے، اس سے 56 ہزار ایکڑ کی زرعی زمین کو سیراب کرنے کے علاوہ ڈیم کی نچلی سطح پر مٹی کے خراب ہونے پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔

اجلاس کے دیگر ایجنڈے میں آزاد جموں و کشمیر (اے جے کے) کے ضلع نیلم میں 48 میگاواٹ کے جاگراں ہائیڈروپاور سٹیشن (فیز ٹو) کا قیام بھی شامل ہے جس کی تکمیل کے لیے ایکنک نے (لاگت پر دوسری بار نظرثانی) سے 11.37 ارب روپے کی منظوری دی۔

وزارتِ امورِ کشمیر اور گلگت بلتستان کے تعاون اور اے جے کے کی پاور ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن کے ذریعے اس منصوبے کو مکمل کیا جائے گا۔ منصوبہ دریائے جاگراں پر تعمیر کیا جا رہا ہے جس سے سالانہ 212.43 گیگاواٹ توانائی پیدا کی جائے گی۔

اس کے علاوہ، ایکنک نے گریٹر کراچی واٹر سپلائی منصوبے کے فیز وَن کی بھی منظوری دی جس پر 55.55 ارب روپے لاگت آئے گی، اس منصوبے سے کراچی کو روازنہ 65 کروڑ گیلن اضافی پانی فراہم کیا جائے گا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here