آمدن میں اضافے کیلئے حکومت کا کارپوریٹ سیکٹر کی ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کا فیصلہ

کابینہ کی منظوری کے بعد انکم ٹیکس (ترمیمی) بل 2021ء ایوان بالا میں پیش، 80 ترامیم شامل، حکومت کو 140 ارب روپے آمدن متوقع

602

اسلام آباد: وزیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ نے وفاقی کابینہ کی جانب سے منظوری کے بعد انکم ٹیکس (ترمیمی) بل 2021ء کو ایوان بالا میں پیش کر دیا۔

ذرائع کے مطابق اس بل میں کارپوریٹ سیکٹر بشمول غیرمنافع بخش اداروں کو بھی ٹیکس نیٹ میں لانے سمیت انکم ٹیکس کے حوالے سے متعدد اصلاحات کی تجویز دی گئی ہے۔

اسی طرح انکم ٹیکس بل (ترمیمی) 2021ء میں حکومت کی جانب سے غیرملکی مالیاتی اداروں اور دوسرے ملکوں سے قرضے حاصل کرنے کے اختیارات کے حوالے سے اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔ جون 2024ء سستے ہائوسنگ یونٹس مکمل کرنے والے رئیل اسٹیٹ مالکان کو ٹیکس چھوٹے دینے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔

بل میں تجویز پیش کی گئی ہے کہ اگر آئی پی پیز کے مالکان جون 2021ء سے قبل حکومت کے ساتھ معاہدہ کر لیتے ہیں تو انہیں بھی ٹیکس چھوٹ دی جائے گی جبکہ جون 2021ء تک معاہدہ کرنے والی آئل ریفائنریز کو بھی ٹیکس چھوٹ دینے کا عندیہ دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرنے کیلئے حکومت انکم ٹیکس ترمیمی بل متعارف کرائے گی

حکومت سے تمباکو کمپنیوں کا قانون سازی میں اثرورسوخ کم کرنے، ٹیکس چھوٹ نہ دینے کا مطالبہ

مجموعی طور پر حکومت نے انکم ٹیکس (ترمیمی) بل 2021ء میں 80 ترامیم پیش کی ہیں جن میں سے زیادہ تر ٹیکس چھوٹ ختم کرنے سے متعلق ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے یہ ترامیم آئی ایم ایف پروگرام بحالی کے حوالے سے حکومتی اقدامات کا حصہ ہیں اور اگر مجوزہ شعبوں میں ٹیکس چھوٹ ختم کر دی گئی تو حکومت کو 140 ارب روپے آمدن ہو گی جبکہ آزاد ذرائع کہتے ہیں کہ محض 30 ارب روپے آمدن ہو گی۔

گزشتہ روز وفاقی کابینہ نے بھی معیشت کی مضبوطی اور اداروں  کی بہتری کے حوالے سے تین قوانین کی منظوری دی جس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے حکومت کی معاشی ٹیم نے مذکورہ قوانین پر روشنی ڈالی۔

وزیر خزانہ حفیظ شیخ نے کہا کہ وفاقی کابینہ میں کچھ اہم قوانین کی منظوری دی ہے جن میں سٹیٹ بینک آف پاکستان سے متعلق قانون منظور کیا گیا ہے جس کا بنیادی مقصد اس کے لیے مینڈیٹ طے کرنا اور اسے پارلیمنٹ میں احتساب کے لیے جواب دہ بنانا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سرکاری اداروں اور کمپنیوں سے پیپرا کی مداخلت کو ختم کیا جا رہا ہے اور اداروں کو وزارتوں کی بجائے حکومت کے ماتحت کیا جا رہا ہے، اداروں کے بورڈز کے چیئرمین اب حکومت مقرر کرے گی جب کہ اداروں کے سی ای او بورڈز کی تقرری کریں گے، کمپنیوں کی لیڈرشپ پروفیشنل ہو گی اور انہیں بار بار تبدیل نہیں کیا جائے گا۔

وفاقی وزیر حفیظ شیخ نے کہا کہ ٹیکس نظام بہتر بنانے کے لئے ترامیم کی ہیں، ٹیکسوں کی چھوٹ میں کمی لانے کے لیے بھی قانون لایا گیا ہے، اس سے ٹیکس زیادہ اکٹھا ہو گا، انکم ٹیکس میں خصوصی شعبوں کے لیے چھوٹ ختم کی جا رہی ہے، تمام شعبوں کے لیے ٹیکس مساوی کر رہے ہیں۔ کارپوریٹ سیکٹر کیلئے بھی ٹیکس چھوٹ کو ختم کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نجکاری مشکل کام ہے، اس میں سرمایہ دار کی ضرورت ہوتی ہے، نجکاری کے پروگرام کو مزید بڑھایا گیا ہے، کچھ کمپنیوں کی نجکاری ہو جاتی اگر کورونا وبا نہیں آتی۔ کورونا کے باعث نجکاری میں چھ سے نو ماہ کا بریک آیا۔

ایک سوال کے جواب میں وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے بتایا کہ حکومت اپنے اخراجات اور آمدنی میں فرق کو کم کر رہی ہے اور سٹیٹ بینک سے کوئی قرض نہیں لیا گیا۔ آئی ایم ایف کے ساتھ پروگرام دوبارہ بحال ہو چکا ہے، آئی ایم ایف کے بورڈ سے جلد مذاکرات ہوں گے اور قرض کی اگلی قسط موصول ہو گی۔

اس موقع پر وفاقی وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے ہدایات دی ہیں کہ یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن پر پانچ  بنیادی اجناس پر سبسڈی جاری رکھی جائے، اقتصادی رابطہ کمیٹی اپنے آئندہ اجلاس میں رمضان پیکیج کی منظوری دے گی۔

وزیراعظم کے مشیر برائے ادارہ جاتی اصلاحات ڈاکٹر عشرت حسین نے کہا کہ پہلے کسی کو پتا نہیں تھا کہ پاکستان میں کتنے ادارے کام کر رہے ہیں، ہم نے سروے کرایا تو معلوم ہوا کہ 441 ادارے متحرک ہیں، ان اداروں کے ساتھ پرفارمنس ایگریمنٹ ہوں گے۔

ڈاکٹرعشرت حسین نے بتایا کہ مختلف اداروں کے 56 چیف ایگزیکٹوز تعینات کر دیے گئے ہیں، درست شخص درست جاب کے لیے ہو گا تو ادارے بنیں گے، میرے ذمے یہ بھی ہے کہ اداروں کو کیسے مضبوط بنایا جائے، ان اداروں کو دو کلاسز میں علیحدہ کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ 85 کمرشل اداروں میں سے 51 ادارے منافع بخش ہیں، مجموعی طور پر 44 جبکہ ابتدائی طور پر 28 اداروں کی نجکاری کی جائے گی۔ ‏سرکاری اداروں کو چلانے کے لیے منصوبہ بنایا جائے گا، ‏اب تک نئے عمل کے تحت ہر آسامی مشتہر کی جاتی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here