حکومت سے تمباکو کمپنیوں کا قانون سازی میں اثرورسوخ کم کرنے، ٹیکس چھوٹ نہ دینے کا مطالبہ

81

اسلام آباد: ایک تھنک ٹینک کی جانب سے حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ملک میں بین الاقوامی تمباکو کمپنیوں کی لابی کا پالیسی سازی میں اثرورسوخ ختم کرے اور ٹیکس ریلیف میں کمی کرے۔

سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ (ایس ڈی پی آئی) کی جانب سے ‘ریجنل ٹوبیکو ٹیکس رجیم اور صحت کے لیے اس پر عملدرآمد’ کے نام سے ایک تحقیق میں ٹوبیکو لابی کے اثرورسوخ کو ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

تحقیق کے مطابق تمباکو مصنوعات کے قوانین پر بِلاامتیاز اور صحیح معنوں میں عملدرآمد ہونا چاہیے، حکومت تمباکو کمپنیوں کے سگریٹ کی غیرقانونی تجارت کے غلط اعدادوشمار کے دعوے کو مسترد کرے اور ٹیکس عائد کرنے سے متعلق کسی قسم کی رعایت نہ دے۔

ایس ڈی پی آئی کی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ تمباکو انڈسٹری سے سیاسی مداخلت کو بھی دور رکھنا چاہیے کیونکہ انڈسٹری اسی اثرورسوخ کو اپنے مفادات کیلئے استعمال کرتی ہے، اسی امر کی بنیاد پر تمباکو لابی ٹیکس مراعات کا مطالبہ کرنے کیلئے زیادہ طاقتور ہو جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

سگریٹ ساز کمپنیوں کا آئندہ سال 22 فیصد زیادہ تمباکو خریدنے کا اعلان

تمباکو کی برآمدات سے پاکستان کو 8 ملین ڈالر سے زائد زرمبادلہ حاصل

برٹش امریکن ٹوبیکو کا پاکستان میں کاروباری مرکز قائم کرنے کا فیصلہ

رپورٹ کے مطابق سگریٹ کی سالانہ کھپت 86.6 ارب کے قریب ہے، انڈسٹری کی جانب سے باضابطہ اعدادوشمار صرف 55 ارب تک ہی محدود ہیں، عام طور پر سگریٹ کی باقی کی کھپت کو غیرقانونی تجارت کے کھاتے میں ڈال دیا جاتا ہے لیکن غیرقانونی تجارت کا حجم 9 فیصد سے زیادہ نہیں ہے جو کمپنیوں کی جانب سے رپورٹ کیے گئے 41 فیصد سے کئی گنا کم ہے۔

تحقیق میں کہا گیا ہے کہ اسی لیے پاکستان میں سگریٹ کا اوسط پیک خطے کے مقابلے میں کم قیمت پر فروخت ہوتا ہے جس کے باعث ناصرف ٹوبیکو انڈسٹری کی جانب سے آمدن بھی کم ہوتی ہے بلکہ انسانی صحت کو کئی مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔

تحقیق میں تجویز دی گئی ہے کہ یونیفارم ٹیکس سسٹم کو ہر سطح پر لاگو کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ٹیکس چوری کو روکا جا سکے، رپورٹ میں حکومت سے ٹائر سسٹم کو ختم کرنے کی درخواست کی گئی ہے جو ٹوبیکو کمپنیوں کو ٹیکس چوری کرنے کے مواقع فراہم کرتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ سنگل ٹائٹر سسٹم ناصرف ٹوبیکو انڈسٹری کے ریونیو جنریٹ کرنے کو مضبوط کرنے میں مدد فراہم کرے گا بلکہ غیرقانونی تجارت کے مسائل کو بھی باخوبی حل کرے گا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here