آئی سی سی آئی کا پے پال سمیت دیگر ای پیمنٹ گیٹ ویز کو اجازت دینے کا مطالبہ

حکومت پالیسی اصلاحات کے ذریعے ای کامرس پر خصوصی توجہ دے، اس سے ملک میں دستاویزی معیشت فروغ پائے گی، ٹیکسوں میں اضافہ اور ٹیکس چوری کم ہو گی: صدر اسلام آباد چیمبر

121

اسلام آباد: اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کی جانب سے سٹیٹ بینک پر زور دیا گیا ہے کہ پے پال سمیت پاکستان میں ای پیمنٹ گیٹ ویز کو اجازت دینے کے لئے ہنگامی اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ ایمازون اور ای بے سمیت دیگر انٹرنیشنل کمپنیاں پاکستان میں آن لائن کاروبار شروع کر سکیں۔

صدر آئی سی سی آئی سردار یاسر الیاس خان نے کہا ہے کہ آنے والا وقت آن لائن کاروبار کا ہے اور پاکستان میں ای کامرس کا مستقبل بہت روشن ہے، کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں کاروبار ٹھپ ہو گئے تھے لیکن ای کامرس واحد بزنس ماڈل ہے جس نے اِن مشکل حالات میں متاثر کن ترقی حاصل کی ہے۔

اسلام آباد چیمبر نے آن لائن پلیٹ فارم دراز کے تعاون سے 6 مارچ کو چیمبر میں ایک ای کامرس سمٹ منعقد کرنے کا اہتمام کیا ہے تاکہ تاجر برادری کو آن لائن کاروبار شروع کرنے میں معاونت فراہم کی جائے، دراز کی ٹیم کاروباری برادری کو ای کامرس کے ذریعے کاروبار کو فروغ دینے کے طریقوں کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کرے گی۔

یہ بھی پڑھیے:

کیا فیس بک آن لائن کاروبار پر بھی تسلط قائم کرنے جا رہی ہے؟

پاکستانی ای کامرس مارکیٹ کا حجم 96 ارب روپے ہو گیا

کیا ای کامرس پلیٹ فارم تعمیراتی صنعت میں اپنی جگہ بنا پائیں گے؟

ایک بیان میں صدر اسلام آباد چیمبر کا کہنا تھا کہ ای کامرس سمٹ میں دلچسپی رکھنے والی کمپنیوں اور برانڈز کی رجسٹریشن کی جائے گی تاکہ وہ فوری طور پر آن لائن کاروبار شروع کر سکیں۔

سردار یاسر الیاس نے کہا کہ ای کامرس اس وقت پوری دنیا میں تیزی سے فروغ پا رہی ہے۔ 2019ء میں ای کامرس نے تقریباََ 3.53 کھرب ڈالر کا کاروبار کیا جبکہ 2022ء میں یہ کاروبار بڑھ کر 6.54 کھرب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان کیلئے ای کامرس میں ترقی کرنے کے پرکشش مواقع موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ای کامرس کی ترقی ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لئے وزیراعظم کے وژن کو آگے بڑھانے میں معاون ثابت ہو گی۔ پاکستان میں کاروباری ادارے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو اپنا کر ای کامرس کو بہتر فروغ دے سکتے ہیں۔

آئی سی سی آئی کے صدر نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ای کامرس میں آسانیاں پیدا کرنے کیلئے ضروری اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ پاکستان تیزی سے ڈیجیٹل اکانومی کی طرف پیش رفت کرے۔

انہوں نے اسٹیٹ بینک پر بھی زور دیا کہ پے پال سمیت دیگر ای پیمنٹ گیٹ ویز کو اجازت دینے کے لئے ہنگامی اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ ایمازون اور ای بے سمیت دیگر انٹرنیشنل کمپنیاں پاکستان میں آن لائن کاروبار شروع کر سکیں۔

یاسر الیاس نے حکومت پر زور دیا کہ پالیسی اصلاحات کے ذریعے ای کامرس کاروبار کو فروغ دینے پر خصوصی توجہ دی جائے کیونکہ ای کامرس کی ترقی سے ملک میں دستاویزی معیشت فروغ پائے گی، ٹیکسوں میں اضافہ اور ٹیکس چوری کم ہو گی، ملک میں بدعنوانی کم ہو گی اور تمام سرکاری محکموں میں شفافیت کو فروغ ملے گا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here