مکہ مکرمہ میں سات ٹاورز پر مشتمل نئے تعمیراتی پراجیکٹ کا اعلان

177

مکہ مکرمہ: سعودی عرب کی ریئل سٹیٹ ڈویلپمنٹ کمپنی دارالاران نے مکہ مکرمہ کے مرکز میں نئی پرائم سٹیٹ ڈویلپمنٹ لانچ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

عرب نیوز کے مطابق نیا دار المشاعر منصوبہ سات بلندوبالا  ٹاورز پر مشتمل ہے جس میں چھ ہزار 300 مربع میٹر کے دو، تین اور چار بیڈ روم والے اپارٹمنٹس، چھ پینٹ ہائوسز اور ایک نجی سوئمنگ پول بنایا جائے  گا۔

مسجد الحرام اور جمرات پُل سے دس منٹ کی ڈرائیو پر واقع اس رئیل اسٹیٹ منصوبے میں خریداروں کو 12 سالہ قسط ادائیگی کا منصوبہ پیش کا جا رہا ہے۔

اس منصوبے کے احاطے میں ایک گرانڈ مسجدبھی شامل ہو گی، حج و عمرہ کی ادائیگی کے لیے دار المشاعر میں ٹھہرنے والے زائرین کو مسجد الحرام تک آمد ورفت کے لیے شٹل بسیں بھی فراہم کی جائیں گی۔

دارالاران کے چیئرمین یوسف الشلاش نے کہا ہے کہ نئی اسٹیبلشمنٹ کا مقصد کمپنی کی جانب سے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے وژن 2030ء میں حصہ لینا ہے۔

انہوں نے کہا دارالمشاعر کا آغاز ایک خصوصی سرمایہ کاری کا موقع فراہم کرتا ہے اور اس خواب کو پورا کرنے کے لیے ہر سعودی کو اسلام کے سب سے مقدس شہر میں جائیداد کا مالک بنانا ہے۔

یہ نیا منصوبہ سعودی حکومت کے اس وژن کا ایک حصہ ہے جس کے تحت سعودی شہریوں کے لیے گھروں کی ملکیت کو 50 سے 70 فیصد تک بڑھانا ہے۔

سعودی سینٹرل بینک (ساما) کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ایک سال پہلے کے مقابلے میں نئے سعودی مارگیج میں ایک تہائی سے زیادہ کا اضافہ ہوا ہے۔

بینک کا کہنا ہے کہ نئی جائیدادوں کی منتقلی کے مطالبے کے مطابق مارگیج کے معاہدوں کی تعداد کو تقریباً 33 ہزار تک بڑھا دیا گیا جس کی مالیت 16.4 ارب سعودی ریال ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here