چینی کمپنی کا لاہور میں سپورٹس وئیر کا انڈسٹریل پارک قائم کرنے کا فیصلہ

15 کروڑ ڈالر کی ابتدائی سرمایہ کاری کی جائیگی، سالانہ 12 کروڑ ڈالر کی برآمدات متوقع، 10 ہزار افراد کو روزگار ملے گا

1088

اسلام آباد: چین کی کمپنی چیلنج اپیرل لاہور میں 15 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی جس سے سٹیٹ آف دی آرٹ فیبرک، ڈائننگ اور گارمنٹس مینوفیکچرنگ یونٹس قائم کئے جائیں گے۔

چینی سرمایہ کاری سے پاکستان سے امریکہ، یورپ سمیت دنیا کے کئی ممالک کو کی جانے والی سپورٹس ویئرز کی برآمدات میں اضافہ ہو گا۔

کمپنی کی مینجنگ ڈائریکٹر چین یان المعروف کیرن نے کہا ہے کہ ان کی کمپنی 2017ء سے کاروبار کر رہی ہے جو لاہور اور قصور کے درمیان انڈسٹریل پارک میں 15 کروڑ ڈالر کی نئی سرمایہ کاری کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: 

چین کا 246 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے 80 کروڑ افراد کو غربت سے نکالنے کا دعویٰ

بجلی کے پیداواری شعبہ میں 47 کروڑ ڈالر سے زائد براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری ریکارڈ

سویڈش کمپنیوں کو الیکٹرک وہیکلز، موبائل فون مینوفیکچرنگ میں سرمایہ کاری کی دعوت

اپنے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان کے صنعتی شعبہ میں کی جانے والی پہلی براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری ہے جس سے سپورٹس وئیر کی برآمدی صنعت قائم کی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ مالی سال میں چیلنج اپیریل نے چار کروڑ 40 لاکھ ڈالر کی برآمدات کی تھیں تاہم رواں مالی سال میں برآمدات پانچ کروڑ 40 ڈالر تک بڑھنے کی توقع ہے۔

چیلنج اپیرل کے مینجنگ ڈائریکٹر نے کہا کہ نئی سرمایہ کاری سے قائم کئے جانے والا چیلنج فیشن انڈسٹریل پارک آئندہ سال جولائی تک پیداوار شروع کر دے گا۔

انہوں نے کہا کہ پیداوار شروع کرنے کے پہلے سال میں پاکستان سے کھیلوں کے ملبوسات کی 12 کروڑ ڈالرکی برآمدات متوقع ہیں جبکہ آئندہ چند سال میں برآمدات کا حجم 40 کروڑ ڈالر تک بڑھایا جائے گا، نئے انڈسٹریل پارک سے حاصل ہونے والی ساری کی ساری پیداوار برآمد کی جائے گی۔

کیرن نے کہا کہ ان کی کمپنی نئے انڈسٹریل پارک میں دنیا بھر سے جدید ترین اور ماحول دوست ٹیکنالوجی پاکستان لائے گی تاکہ اپنے کاروبار میں جدت کو روشناس کرایا جا سکے، پاکستان میں نئے کسٹمرز کو بھی لایا جائے گا۔

ایک سوال پر انہوں نے بتایا کہ چیلنج اپیریل میں تین ہزار افراد کام کر رہے ہیں جبکہ چیلنج فیشن انڈسٹریل پارک سے 10 ہزار 11 ہزار کے قریب روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here