تاجروں کا سٹیٹ بینک سے ری فنانس سکیم میں توسیع کا مطالبہ

ابھی تک پاکستان کی معیشت کووڈ-19 کی تباہ کاریوں سے باہر نہیں نکل سکی، ملازمین کی تنخواہیں ادا کرنے کیلئے معاونت کی جائے: ایف پی سی سی آئی

144

لاہور: فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) نے سٹیٹ بینک آف پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستان میں کورونا وبا کی وجہ سے کمپنیوں کی مدد کیلئے اپنی ری فنانس سکیم میں ایک سال کی توسیع کرے۔

اپنے بیان میں صدر ایف پی سی سی آئی میاں ناصر حیات مگوں اور ریجنل چیئرمین چوہدری محمد سیلم بھلر نے سٹیٹ بینک کے کووڈ-19 کے دوران کئے گئے اقدامات کی تعریف کی اور کہا کہ تاجروں کی قر ض ادائیگیوں کو موخر کرنا اور تنخواہوں کی ادائیگی میں کاروباری اداروں کی معاونت سے تاجروں اور صنعتکاروں کے کیش فلو کے مسائل حل ہوئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس سکیم سے بہت سا رے صنعتی اور سروس سیکٹر کے اداروں کو کورونا وبا کے دوران ملازمین کے روزگار کو برقرار رکھنے میں مدد ملی ہے۔ سکیم کے تحت سٹیٹ بینک نے اب تک 238 ارب روپے نجی شعبے کو جاری کیے ہیں۔

ری فنانس سکیم پر تبصرہ کرتے ہو ئے صدر ایف پی سی سی آئی میاں ناصر حیات مگوں نے کہا کہ اس سکیم کا مقصد ملازمین کے مالی معاوضوں اور تنخواہوں کے ذریعے ہر قسم کے کاروبار کی بینکو ں کے ذریعے مدد کرنا ہے، جیسا کہ ابھی تک پاکستان کی معیشت کووڈ-19 کی تبا ہ کاریوں سے باہر نہیں نکل سکی، لہٰذا سٹیٹ بینک سے درخواست ہے کہ سکیم کو ایک سال کیلئے مزید بڑھائے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here