شوگر ملز میں ویڈیو اینالیٹکس سرویلینس کی تنصیب سے ایف بی آر کو چھ ارب آمدن متوقع

203

اسلام آباد: وفاقی بورڈ برائے ریونیو (ایف بی آر) کو شوگر ملز میں پیداوار پر نظر رکھنے سے متعلق ویڈیو اینالیٹکس سرویلنس (وی اے ایس) سسٹم نصب کرنے کی بدولت چھ ارب روپے آمدن کی توقع ہے۔

اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے شوگر ملز میں ٹیکس چوری روکنے اور انکے آپریشنز کو مانیٹر کرنے کے لیے وی اے ایس سسٹم نصب کرنے کے لیے 350 ملین روپے کی منظوری دی تھی۔

وی اے ایس سسٹم ویڈیو کمیرا اور سینسرز کے ذریعے پیداوار کو مانیٹر کرتا ہے۔  ایف بی آر اور پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کی جانب سے گزشتہ برس اکتوبر میں ایک معاہدے پر دستخط کے ذریعے وی اے ایس سسٹم متعارف کرایا گیا تھا۔

سرویلینس ڈیوائسز کی درآمد اور لائسنس سے متعلق قانونی کارروائی مکمل ہونے پر وی اے ایس سسٹم کی تنصیب کا آغاز کیا جائے گا۔

شوگر ملرز کا کہنا ہے کہ آئندہ موسمِ خزاں میں گنے کے کرشنگ سیزن کی مانیٹرنگ کے آغاز کا نوٹس دے دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

ایف بی آر کا ویڈیو اینالیٹیکل سسٹم انسٹال نہ کرنے والی شوگر ملز کو بھاری جرمانے کرنے کا فیصلہ

ایف بی آر: سات ماہ میں 2570 ارب روپے ٹیکس جمع، ریفنڈز میں 80 فیصد اضافہ

سندھ آباد گھر شوگر ملز کے چیف ایگزیکٹو تارا چاند ایسرانی کا کہنا ہے کہ “آئندہ کرشنگ سیزن کے آغاز سے پہلے الیکٹرک مانیٹرنگ سسٹم کی توقع ہے۔ ایف بی آر کے حکام کو زیادہ تر شوگر ملز میں نومبر 2020 سے شروع ہونے والے کرشنگ سیزن سے ہی تعینات کر دیا گیا ہے”۔

اگرچہ، ایف بی آر کو امید ہے کہ مانیٹرنگ سسٹم سرکاری خزانے بھرنے میں اہم کردار ادا کرے گا، ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیکس چوری کے حقیقی مسائل کے پیچھے ایجنسی کی بے خبری اور قانون کو ٹھیک طرح سے نافذ نہ کرنا ہے۔

ماہرین کے مطابق ایف بی آر کو انسانی وسائل بہتر کرنے اور ٹیکنالوجی کے ذریعے مداخلت سے ٹیکس چوری کو پکڑنےکی ضرورت ہے۔  انہوں نے مزید کہا کہ ٹیکس چوری اور ٹیکس ادائیگی سے گریز یا تو نااہلی یا کرپشن کی وجہ سے کیا جاتا ہے۔ ایف بی آر کے لیے سب سے پہلے اپنے محکمے کو ٹھیک کرنا لازمی ہے۔

مئی 2020ء میں منظرِ عام پر لائی گئی ایک تفتیشی رپورٹ میں معلوم ہوا کہ شوگر ملز مالکان کو کارٹیلز اور سبسڈیز لینے کے لیے پیداواری لاگت میں گڑبڑ، انکے ذخائر کم بتانے اور کسانوں کا استحصال کرنے جیسے عوامل کے ذریعے 100 ارب روپے سے زائد منافع ہوا تھا۔

پاکستان میں 85 کے قریب شوگر ملز زیادہ تر پنجاب اور سندھ میں فعال ہیں۔ ان میں سے زیادہ ملز کا تعلق بااثر سیاستدانوں اور انکے خاندانوں سے ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here