وزارت خزانہ کے انتظامی کنٹرول سے آزاد ٹیکس پالیسی یونٹ کے قیام کی منظوری

یونٹ نیشنل ٹیرف کمیشن کے خطوط پر کام کرتے ہوئے محصولات میں اضافہ کیلئے سفارشات تیار کرے گا، اس کے نئے ڈھانچے میں  ایف بی آر ممبران سمیت تعلیم، تھینک ٹینک اور نجی شعبہ سے ماہرین شامل ہوں گے

341

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کے پالیسی بورڈ نے وزارت خزانہ کے انتظامی کنٹرول سے آزاد ٹیکس پالیسی یونٹ کے قیام کی منظوری دیدی۔

ایف بی آر پالیسی بورڈ کا پانچواں اجلاس جمعرات کو وزیر خزانہ حفیظ شیخ کی زیر صدارت ایف بی آرہیڈ کوارٹرز میں منعقد ہوا، اجلاس میں 29 نومبر 2018ء کو وفاقی کابینہ کے فیصلے کی روشنی میں ٹیکس پالیسی یونٹ کے قیام کے بارے میں ایف بی آر کی جانب سے پریزینٹیشن دی گئی۔

پالیسی بورڈ کے ممبران نے ٹیکس پالیسی فنکشن کو انتظامی فنکشن سے آزادانہ رکھنے سے حاصل فوائد کے بارے میں آراء دیں، اس معاملہ پر بحث و مباحثہ کے بعد وزیر خزانہ نے وزارت خزانہ کے انتظامی کنٹرول سے باہر ٹیکس پالیسی یونٹ کے قیام کی منظوری دیدی۔

ٹیکس پالیسی یونٹ کیلئے نیا ڈھانچہ قائم ہو گا جس میں ایف بی آر کے ممبران سمیت تعلیم، تھینک ٹینک اور نجی شعبہ کے مالی اور زری ماہرین شامل ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیے:

ایف بی آر نے جنوری میں ہدف سے 24 ارب روپے زائد ٹیکس جمع کر لیا

وفاق اور صوبوں کو نان ٹیکس ریونیو کی مد میں آٹھ کھرب 95 ارب آمدن

متعدد ٹیکس استثنیٰ صدارتی آرڈیننس کے ذریعے ختم کیے جانے کا امکان

ممبران محصولات میں اضافہ کیلئے خودمختاری کے ساتھ جامع تجاویز اور سفارشات مرتب کریں گے، ٹیکس پالیسی یونٹ وزارت تجارت کے تحت قائم نیشنل ٹیرف کمیشن کے خطوط پر کام کرتے ہوئے اندرونی محصولات میں اضافہ کیلئے پالیسی سفارشات تیار کرے گا۔

ایف بی آر کی تکنیکی کمیٹی کے جانب سے پالیسی بورڈ کو تاجر اور کاروباری برادری کو ٹیکس کے نظام کے بارے میں معلومات کی فراہمی کے ضمن میں ٹیکسیشن کے نظام کو سادہ بنانے اور بے ضابطگیوں کی نشاندہی کیلئے اٹھائے جانے والے اقدامات کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔

ایف بی آر کی جانب سے بہتر رابطہ کاری اور موثر پالیسی سازی کیلئے وزارت تجارت اور وزارت صنعت و پیداوار کے سینئیر نمائندوں کو شامل کرنے کی درخواست کی گئی۔

کمپلینٹ اوور سایئٹ کمیٹی کے چئیرمین نے پالیسی بورڈ کے ممبران کو حال ہی میں تیار کردہ کمپلینٹ پورٹل کے طریقہ کار کے بارے میں آگاہ کیا جو فی الوقت آزمائشی مراحل میں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تاجروں، دکانداروں، چھوٹے اور درمیانہ درجہ کے کاروبار اور بڑے ٹیکس دہندگان کو سہولیات کی فراہمی کی کوششوں کے ضمن میں شکایات کے حل کا طریقہ کار وضع کر لیا گیا ہے،  تمام شکایات ایک ہی مقام پر دائر ہوتی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ شکایات کے حل کیلئے معیاری طریقہ ہائے کار اور کمپلینٹ اوورسائیٹ کمیٹی کی نگرانی کے حوالہ سے تمام تر تفصیلات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے اور بہت جلد یہ نظام باقاعدہ طور پر شروع ہو جائے گا۔

وزیر خزانہ عبدالحفیظ  شیخ نے شکایات کے اندراج کے طریقہ کار سے متعلق تمام مطلوبہ معلومات فراہم کرنے اور رابطہ تفصیلات کی عام لوگوں تک فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات کی ہدایت کی۔

وزیرخزانہ نے ٹیکس دہندگان کو سہولیات کی فراہمی کے حکومتی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ایف بی آرکو پانچ کروڑ روپے سے کم مالیت کے انکم ٹیکس ریٹرنز کی ادائیگی کا عمل تیزکرنے کی ہدایت بھی کی۔

اجلاس میں وفاقی وزیر نجکاری محمد میاں سومرو، مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد، مشیر ادارہ جاتی اصلاحات ڈاکٹر عشرت حسین، معاون خصوصی برائے محصولات ڈاکٹر وقار مسعود، چئیرمین ایف بی آر جاوید غنی، ایف بی آر کے سینئیر ممبران اور نجی شعبہ کے نمائندوں نے شرکت کی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here