ایف بی آر نے جنوری میں ہدف سے 24 ارب روپے زائد ٹیکس جمع کر لیا

جولائی سے جنوری تک سات ماہ کا ٹیکس ہدف دو کھرب 55 ارب روپے تھا، ایف بی آر نے دو کھرب 57 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کر لیا

236

اسلام آباد: وفاقی بورڈ برائے ریونیو (ایف بی آر) نے مالیاتی سال 2020-2021 کے پہلے سات ماہ (جولائی تا جنوری) کے دوران 2550 ارب روپے کے ٹیکس ہدف کے مقابلے میں مجموعی طور پر 2570 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ہے۔ 

حکام کے مطابق جاری مالیاتی سال کے پہلے سات ماہ کے دوران ایف بی آر کا 2570 ارب روپے کا پروویژنل ٹیکس ہدف گزشتہ برس کے اسی عرصے کے مقابلے میں 6.4 فیصد زیادہ ہے، گزشتہ برس محکمے نے 2416 ارب روپے کا ٹیکس اکٹھا کیا تھا۔

جنوری میں ایف بی آر کو 340 ارب روپے کا ٹیکس اکٹھا کرنے کا ہدف دیا گیا تھا جبکہ اس کے برعکس محکمے نے 364 ارب روپے مالیت کا ٹیکس اکٹھا کیا، گزشتہ سال کے جنوری کے مقابلے میں ٹیکس اکٹھا کرنے میں 12.3 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ رواں سال میں ایف بی آر کے ٹیکس ہدف میں پہلی بار دو ہندسے اضافہ ہوا ہے۔

جاری سال کے پہلے سات ماہ کے دوران گزشتہ برس کے 69 ارب روپے کے مقابلے میں 129 ارب روپے کی ریفنڈ ادائیگیاں کی گئیں، یوں رواں برس ریفنڈ ادائیگیوں میں 87 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیۓ:

آئی ٹی سروسز پر نیا ٹیکس؟ ایف بی آر کی وضاحت

ایف بی آر کا ویڈیو اینالیٹیکل سسٹم انسٹال نہ کرنے والی شوگر ملز کو بھاری جرمانے کرنے کا فیصلہ

انڈسٹری کو لیکویڈیٹی مسائل سے بچانے کے لیے یہ ایف بی آر کے فاسٹ ٹریک ریفنڈز کی عکاسی کرتی ہے۔

حکام نے ٹیکس میں اضافے کی وجہ کورونا وائرس کی دوسری لہر کے باوجود ملک میں معاشی سرگرمیاں تیز ہونے کو قرار دیا ہے۔ حکام نے مزید کہا کہ آئندہ بھی توقع ہے کہ یہ کارکردگی معاشی سرگرمیوں کی بحالی سے مزید بہتر ہو گی۔

ایف بی آر کے مطابق محکمہ ملک میں ٹیکس بیس کا دائرہ کار وسیع کرنے کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہا ہے۔

30 جنوری 2021 تک انکم ٹیکس ریٹرنز کی تعداد گزشتہ برس کے 2.31 ملین کے مقابلے میں 2.52 ملین ریکارڈ کی گئی، اس طرح انکم ٹیکس ریٹرنز میں 9 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ ریٹرنز کے ساتھ ٹیکس ڈیپازٹ کی مالیت گزشتہ برس کے 29.6 ارب روپے کے مقابلے میں 48.3 ارب روپے ریکارڈ کی گئی، اس طرح ان ڈیپازٹ میں 63 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

اس کے علاوہ، ایف بی آر نے 1.4 ملین کے قریب ٹیکس دہنندگان کو نوٹسز جاری کیے جنہوں نے ریٹرنز فائل کرنا تھے لیکن فائل کیے گئے ریٹرنز میں انہوں نے اپنے اثاثے ظاہر ہی نہیں کیے تھے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here