متعدد ٹیکس استثنیٰ صدارتی آرڈیننس کے ذریعے ختم کیے جانے کا امکان

221

اسلام آباد: حکومت کی جانب سے صدارتی آرڈیننس کے ذریعے آئندہ مالی سال سے قبل کارپوریٹ سیکٹر کو متعدد قسم کے ٹیکس کی مد میں دیا گیا استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق وفاقی بورڈ برائے ریونیو (ایف بی آر) نے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001ء سے کارپوریٹ سیکٹر کو 100 سے 150 ارب روپے تک انکم ٹیکس سے استثنیٰ واپس لینے کی تیاری کر لی ہے اور اگر آئندہ بجٹ سے پہلے کارپوریٹ سیکٹر کو انکم ٹیکس سے استثنیٰ کا فیصلہ واپس لیا گیا تو آرڈیننس آئندہ فنانس بل 2021-22ء کا حصہ ہو گا۔

ایف بی آر نے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001ء کی متعلقہ شقوں کے تحت کارپوریٹ ٹیکس کا استثنیٰ ختم کرنے کی فہرست پر نظرثانی کر لی ہے۔

تاہم جاری مالی سال میں اگر یہ استثنیٰ ختم کرنے کی اجازت دے دی گئی تو یہ آئندہ مالی سال سے لاگو ہو جائے گا۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ آئندہ مالی سال کے لیے فنانس بل میں انکم ٹیکس آرڈیننس 2001ء میں ترامیم بھی کی جائے گی۔

ایف بی آر کی جانب سے کی گئی نظرثانی سے ظاہر ہوتا ہے کہ کارپوریٹ سیکٹر کو 150 سے 200 ارب روپے تک انکم ٹیکس سے استثنیٰ کی مراعات دی گئی تھیں اور ابھی تک یہ دیکھنا باقی ہے کہ پالیسی سازوں کی منظوری کے بعد استثنیٰ ختم ہونے پر کتنا ٹیکس دوبارہ لاگو ہو گا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here