عوام تیار رہیں، چینی کی قیمت آئندہ مہینوں میں بھی زیادہ رہنے کا خدشہ

214

کراچی: ملک کی بڑی شوگر ملز کے مالکان نے رواں سیزن چینی کی پیداواری لاگت میں اضافے اور پیداوار میں کمی کی وجہ سے آنے والے کچھ ماہ میں چینی کی قیمتیں بلند رہنے کا خدشہ ظاہر کر دیا۔

اس صورتحال کے پیش نظر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت چینی کی قیمتیں کم کرنے میں ناکام ہو سکتی ہے۔

جے ڈی ڈبلیو شوگر ملز کے مالک اور پی ٹی آئی کے رہنما جہانگیر خان ترین نے 2 فروری کو پاکستان سٹاک ایکسچینج کو ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ “عام طور پر حکومت چینی کی فروخت اسکی حقیقی لاگت سے بھی کم قیمت پر فروخت کرنا چاہتی ہے لیکن مارکیٹ میں چینی کی قیمتیں اپنے تائیں بلند رہیں گی”۔

اس سے قبل، گنے کی نومبر سے مارچ کے سیزن کے دوران بروقت کرشنگ شروع ہونے کی وجہ سے دسمبر کے دوسرے ہفتے کے دوران ملک بھر میں ریٹیل سطح پر چینی کی اوسط قیمت 80 روپے فی کلوگرام پر آگئی تھی۔

تاہم، ادارہ برائے شماریات پاکستان (پی بی ایس) کے اعدادوشمار کے مطابق جاری ہفتے کے دوران اسلام آباد اور راولپنڈی جیسے ملک کے شہروں میں چینی کی قیمت پھر سے 100 روپے فی کلوگرام سے تجاویز کر گئی ہے۔

کچھ ماہ قبل، مارچ سے مئی 2020 کے دوران ریٹیل مارکیٹ میں چینی کی قیمت 80 روپے سے بڑھ کر 110 روپے فی کلوگرام سے تجاوز کر گئی تھی۔ حکومت کا کہنا تھا کہ شوگر مافیا کی ملی بھگت سے چینی کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیۓ:

وزارت صنعت و پیداوار کو چینی کے ذخائر، فراہمی اور قیمت کی مسلسل نگرانی کی ہدایت

ایک ہفتے میں 18 اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافہ

دسمبر 2018 میں چینی کی قیمت 55 روپے فی کلوگرام تھی۔ جے ڈی ڈبلیو شوگر ملز نے ملک میں پیداوار کا مجموعی طور پر 20 فیصد حصہ پیدا کیا تھا۔ ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالیاتی سال 2020 کے جون کے آخر تک پاکستان نے 69.80 ملین ٹن گنے سے محض 5.2 ملین ٹن ہی چینی پیدا کی تھی۔

چینی کے پیداکنندہ کا کہنا ہے کہ اگرچہ حکومت نے چینی کی قیمتوں میں استحکام لانے کے لیے سرکاری ملکیتی کمپنی اور نجی شعبےکو آٹھ لاکھ ٹن ریفائنڈ اور خام چینی درآمد کرنے کی ہدایت کی تھی، اُن دنوں عالمی منڈی میں زیادہ قیمتوں پر چینی کی درآمد مالی طور پر نامناسب تھی۔

کمپنی نے اپنے بیان میں کہا کہ “اس سطح پر چینی کی درآمد سے تمام ٹیکس ادائیگیوں کے بعد 110 روپے فی کلوگرام سے زائد لاگت آئے گی”۔

کمپنی نے وضاحت کی کہ گنے کی لاگت میں غیرمعمولی اضافہ سے رواں سال کاشتکاروں کو اضافی 100 ارب روپے ادا کرنا پڑیں گے۔

کمپنی نے اپنی رپورٹ میں اس کے علاوہ کہا کہ گنے سے چینی کی اوسط پیداوار بھی کم ہوئی ہے۔ گنے کے کرشنگ سیزن 2020-2021 کا 10 نومبر 2020 سے آغاز کیا گیا اور کمپنی کی جانب سے 28 جنوری 2021 تک گروپ کی بنیاد پر 463892 ٹن چینی پیدا کی گئی، چینی کی اوسط بحالی کی شرح 9.60 فیصد رہی تھی۔

کمپنی نے گنے کی کرشنگ اور چینی کی بحالی میں مسلسل کمی کو مدِنظر رکھتے ہوئے گروپ کی بنیاد پر گزشتہ سال کے مقابلے میں 13 فیصد کم چینی پیداکرنے کی پیشگوئی کی ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ “گنے کے کرشنگ سیزن کا آغاز 15 سے 20 روز قبل ہی کر لیا گیا  جو چینی کی بحالی میں کمی کی وجہ بنا اور گنے کی خریداری میں شوگر ملز کے مابین قیمتوں میں جنگ سے پیداوار کم اور پیداواری لاگت زیادہ ہونے کی وجہ بن رہی ہے”۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here