یوریا کی فروخت میں 35 فیصد کمی، ڈی اے پی کی فروخت میں چھ فیصد اضافہ

284

لاہور: نیشنل فرٹیلائزر ڈویلپمنٹ سینٹر کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق ملک میں دسمبر 2020 میں یوریا کھاد کی فروخت 881000 ٹن رہی جو ماہانہ بنیادوں پر 65 فیصد زیادہ جبکہ سالانہ اعتبار سے 35 فیصد کم ہے،اس کے ساتھ ساتھ ڈی اے پی کی فروخت میں بھی سالانہ چھ فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

یوریا کھاد کی فروخت میں بہتری کی وجہ مذکورہ کھاد کی قیمتوں میں کمی اور فارم اکانومک میں بہتری آنا ہے۔ تاہم، مجموعی طور پر سال 2020 میں یوریا کی فروخت میں سالانہ اعتبار سے تین فیصد کمی آئی، گزشتہ برس یوریا کی فروخت 6.04 ملین ٹن رہی تھی۔

دسمبر 2020 کے دوران فوجی فرٹیلائزر کمپنی لمیٹڈ (ایف ایف سی)، فوجی فرٹیلائزر بن قاسم لمیٹڈ (ایف ایف بی ایل) اور اینگرو فرٹیلائزرز لمیٹڈ کی فروخت میں بالترتیب 37 فیصد، 52 فیصد اور 51 فیصد کمی آئی جس کی بنیادی وجہ دسمبر 2019 سے قیمتیں بڑھنے کے ڈر سے پہلے سے یوریا کی خریداری تھی۔

تینوں کھاد ساز کمپنیوں کا مشترکہ مارکیٹ شئیر پانچ فیصد بڑھا جو 2019 میں 80 فیصد سے بڑھ کر 2020 میں 85 فیصد تک ریکارڈ کیا گیا۔

دسمبر 2020 میں یوریا کی قیمتیں ماہانہ بنیادوں پر فی تھیلا 1650 روپے برقرار رہیں لیکن دسمبر 2019 میں یوریا کھاد کے تھیلے کی قیمت میں سالانہ 350 روپے کمی آئی جو 2000 سے کم ہو کر 1650 روپے پر آگئی۔ اس کی بنیادی وجہ گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس (جی آئی ڈی سی) کو فیڈ اور فیول گیس سے مکمل طور پر ختم کرنا تھا، جس نے کھاد سازوں کو یوریا کھاد کی قیمتوں میں کمی پر مجبور کیا۔

یہ بھی پڑھیے:

عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں اضافے کا رجحان، پاکستان میں بھی ڈی اے پی کھاد مہنگی ہونے کا خدشہ

رواں سال پاکستان میں یوریا کھاد کی مجموعی کھپت کتنی رہے گی؟

تاہم، جنوری 2021 میں کھاد سازوں نے افراطِ زر میں دباؤ کی وجہ سے کھاد کی قیمتوں میں فی بوری 50 روپے اضافہ کیا۔

دسمبر 2020 کے اختتام تک انڈسٹری کے پاس یوریا کی انوینٹری 299000 ٹن تھی جو دسمبر کے آغاز میں 668000 ٹن تھی۔ یوریا کھاد کی فروخت زیادہ ہونے کی وجہ ماہانہ بنیادوں پر انوینٹری کی 55 فیصد واپسی ہے۔

آئی ایم آر ریسرچ کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق “دسمبر 2021 سے آر ایل این جی پر مبنی پلانٹس کو گیس کی بندش اور کھاد کا انوینٹری لیولز اس کی سالانہ فروخت کی اسی سطح پر رہنے کا امکان ہے”۔

اس دوران، دسمبر 2020 میں ڈی اے پی کی فروخت 205000 ٹن کے قریب ریکارڈ کی گئی، جو ماہانہ بنیادوں پر 44 فیصد زیادہ اور سالانہ بنیادوں پر چھ فیصد کم ہے۔  سال 2020 میں ڈی اے پی کی فروخت 2.17 ملین ٹن رہی جو سالانہ اعتبار سے 12 فیصد زیادہ ہے، مذکورہ کھاد کی فروخت میں اضافے کی وجہ سال 2020 کے ابتدائی مہینوں میں ڈی اے پی کی قیمتوں میں کمی آئی۔

دسمبر 2020 کے اختتام تک ڈی اے پی کی انوینٹری 112000 ٹن رہی جو سالانہ اعتبار سے 77 فیصد کم ہے۔ اگست 2020 سے اب تک ڈی اے پی کی فی بوری کی قیمت 950 روپے سے بڑھ کر 4400 روپے ہو چکی ہے۔ اس میں جنوری 2021 میں ڈی اے پی کی قیمتوں میں 500روپے فی بوری کا اضافہ بھی شامل ہے۔

ایف ایف بی ایل کو اس کھاد سے خاص کر اضافہ ہوا۔ سال 2020 کے دوران یوریا کی طلب 2019 کی 6.2 ملین ٹن کے مقابلے میں 6 ملین ٹن رہی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here