تیل سمگلنگ کیخلاف کارروائی، 1556 پٹرول پمپ سیل

216

لاہور: ملک میں سمگل شدہ پیٹرول فروخت کرنے والے پیٹرول پمپس کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کے دوران 1556 غیرقانونی فیول سٹیشنز سِیل کر دیے گئے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے سمگل شدہ پیٹرول بیچنے والے پیٹرول پمپس کے خلاف مسلسل کارروائی سے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔

3 جنوری 2021 کو وزیراعظم عمران خان نے سمگل شدہ پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت میں شامل عناصر کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کا حکم دیا تھا، قومی خزانے کو غیرقانونی پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت سے 150 ارب روپے سالانہ نقصان ہو رہا تھا۔

10 جنوری 2021 سے غیرقانونی پیٹرول پمپس کے خلاف شروع کی گئی کارروائیوں سے اب تک 30 لاکھ لٹر پیٹرول اور 10.6 ملین لٹر ڈیزل کو قبضے میں لے لیا گیا ہے۔

24 جنوری کو کُل 28 فیول سٹیشنز بند کیے گئے جن میں خیبرپختونخوا میں 15، سندھ میں 10 اور پنجاب میں تین پیٹرول پمپس شامل ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے سول اور ملٹری قیادت کے اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے غیرقانونی پیٹرول پمپس کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم صادر کرتے ہوئے کہا تھا کہ سمگلنگ کی وجہ سے ملکی معیشت کو ناقابلِ تلافی نقصان ہو رہا ہے اور ایسی غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث عناصر کے خلاف حتمی اقدامات نا گزیر ہو گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے:

سمگل شدہ تیل فروخت کرنے والے 1083 پٹرول پمپس کیخلاف کارروائی

سمگلنگ میں ملوث کسٹمز اہلکاروں کا تبادلہ

پنجاب اینٹی کرپشن کی کارروائی، 495 غیر قانونی پٹرول پمپس کا انکشاف

اجلاس میں عمران خان نے ایکشن پلان کی منظوری دیتے ہوئے کہا تھا کہ غیرقانونی پیٹرول پمپس کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کیا جائے گا اور پیٹرول پمپس مالکان کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے ان کی املاک کو حکومتی تحویل میں لے کر بھاری جرمانے بھی عائد کیے جائیں گے۔

وزیراعظم نے عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اینٹی سمگلنگ کریک ڈاؤن سے نکلوائی گئی رقم کو عوامی فلاح و بہبود کے لیے خرچ کیا جائے گا۔

وفاقی بورڈ برائے ریونیو (ایف بی آر) کے ایکشن پلان کے مطابق پنجاب، خیبرپختونخوا اور سندھ میں غیرقانونی پیٹرول پمپس کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا جائے گا جہاں مالکان کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی جائیں گی اور آئل سٹیشنز اور مالکان کی دیگر املاک وفاقی حکومت کی تحویل میں دینے کے لیے کارروائی کا آغاز کیا جائے گا۔

بعدازاں، بلوچستان میں بھی بدعنوان عناصر کے خلاف ایسی ہی سخت کارروائیاں کی جائیں گی، ملک میں زیادہ تر غیرقانونی یا سمگل شدہ پیٹرولیم مصنوعات بلوچستان کے راستے سے ہی سپلائی کی جاتی ہیں۔

آپریشن کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلے مرحلے میں پنجاب، سندھ اور کے پی میں غیرقانونی پیٹرولیم ریٹیل آؤٹ لیٹس کے خلاف کارروائیاں کی جائیں گی، کسٹمز حکام کی جانب سے ان کارروائیوں کی جیو میپنگ کرکے ملک بھر میں بلوچستان سے سمگل شدہ پیٹرولیم مصنوعات کے ترسیلی راستوں کو بند کیا جائے گا۔

دوسرے مرحلے میں بلوچستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی مطلوبہ میپنگ، سمگل شدہ آئل روکنے سے پیٹرولیم آؤٹ لیٹس پر قانونی طور پر پیٹرول کی فراہمی اور بلوچستان کی بین الاقوامی سرحد پر پیٹرولیم مصنوعات کی سمگلنگ کی روک تھام کے لیے حکمتِ عملی تشکیل دینا شامل ہو گا۔

اجلاس کے دوران وزیراعظم عمران خان کو ملک میں سمگل شدہ پیٹرولیم مصنوعات کی تجارت سے متعلق رپورٹ پیش کی گئی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ غیرقانونی پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت سے ملک کو سالانہ 150 ارب روپے آمدن میں نقصان ہو رہا ہے۔ تینوں صوبوں میں اب تک پیٹرولیم مصنوعات کی غیرقانونی فروخت کرنے والے 2094 فیول سٹیشنز کی نشاندہی کی جا چکی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here