پٹرولیم ڈویژن نے دو نئے ایل این جی ٹرمینلز کو گیس فراہمی کی مخالفت کردی

131

اسلام آباد: پیٹرولیم ڈویژن نے کراچی کی پورٹ قاسم بندرگاہ پر دو نئے لیکویفائیڈ نیچرل گیس (ایل این جی) ٹرمینلز کو گیس فراہم کرنے کی تجویز کی مخالفت کردی۔

کابینہ کمیٹی برائے توانائی کے ایک اجلاس کے دوران یہ پیشرفت سامنے آئی جہاں پیٹرولیم ڈویژن نے کہا کہ “نئے ٹرمینلز کو پہلے فعال ہونا چاہیے” کیونکہ ابھی صرف دونوں ٹرمینلز کاغذات میں ہیں اور ابھی تک ان ٹرمینلز کی تعمیر کا آغاز ہی نہیں کیا گیا”۔

پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق یہ تجویز ویسے بھی فریق ثانی کی رسائی کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے جس کے تحت نجی کمپنیاں ایک مسابقتی طریقہ کار کے بعد گیس مارکیٹ میں فروخت کرسکتی ہیں۔

پیٹرولیم ڈویژن کے افسران نے کہا کہ “اس عمل سے انرگیس ٹرمینل پرائیویٹ لمیٹڈ اور تعبیر انرجی پرائیویٹ لمیٹڈ کی جانب سے شروع کیے جانے والے ایل این جی ٹرمینلز مارکیٹ میں موناپلی پیدا کریں گے اور دیگر کمپنیاں محروم رہیں گی”، تین دیگر فریق جیسے پاکستان گیس پورٹ لمیٹڈ، اینگرو اور گلوبل انرجی بھی ٹرمینلز کے قیام کے لیے کام کر رہے تھے جہاں گیس پائپ لائن میں گیس فراہمی کی صلاحیت کو پہلے آئیں پہلے پائیں کی بنیاد پر مختص کرنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیے:

سوئی ناردرن کی ایکسپورٹ سیکٹر کو بلاتعطل گیس فراہمی کی یقین دہانی

عالمی سپلائیرز کا پاکستان کو ایل این جی دینے سے انکار

اوگرا نے گیس پائپ لائن بچھانے کیلئے کے الیکٹرک کو لائسنس جاری کر دیا

پیٹرولیم ڈویژن کے تحفظات کے پیش نظر کابینہ کمیٹی برائے توانائی نے ایک کمیٹی تشکیل دی جس میں وزیر برائے بحری امور علی زیدی، وزیر پیٹرولیم عمر ایوب، وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے پیٹرولیم ندیم بابر اور معاونِ خصوصی برائے پاور تابش گوہر شامل ہیں۔

یہ بھی مدِنظر رہے کہ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کی بنیاد پر فیصلہ کیا جائے گا کہ کوئی بھی صلاحیت، چاہے وہ ‘غیر استعمال شدہ’ ہو یا ‘زیادہ’ ہو، متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے منظوری کے بعد، نجی پارٹیز کو صرف 3ماہ کی فارورڈ وزیبلٹی کی بنیاد پر پیش کیا جانا چاہیے۔

مزید برآں، وزارتِ توانائی کی (پیٹرولیم ڈویژن) نے گیس فراہم کرنے والی کمپنیوں سے دونوں نئے ایل این جی ٹرمینلز ڈویلپرز کے ساتھ گیس فراہمی کے معاہدے کا مسودہ شئیر کرنے کی درخواست کی ہے، جسے اوگرا کی جانب سے فراہمی یا ترسیل کے لائسنس دینے سے پہلے حتمی شکل دینے کا امکان ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here