عالمی سپلائیرز کا پاکستان کو ایل این جی دینے سے انکار

فروری کیلئے جن عالمی کمپنیوں سے ایل این جی فراہمی کی بات ہوئی انہوں نے بڈنگ کے باوجود انکار کر دیا، ملک میں گیس بحران کے شدت اختیار کرنے کا خدشہ

980

لاہور: لیکویفائیڈ نیچرل گیس (ایل این جی) کے عالمی سپلائرز نے پاکستان کو فروری میں گیس کی فراہمی سے انکار کر دیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (پی ایل ایل) نے  SOCAR ٹریڈنگ یو کے لمیٹڈ کو پہلی سپاٹ کارگو کا ٹھیکہ دیا تھا جبکہ دوسری سپاٹ کارگو کا ٹھیکہ کم بولی لگانے والی ایک دوسری کمپنی کو دیا تھا جس نے بولی کے مطابق ایل این جی کی ترسیل سے انکار کر دیا ہے۔

ملک میں گیس بحران سے بچنے کے لیے پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (پی ایل ایل) نے کم بولی لگانے والی مزید دو کمپنیوں سے رابطہ کیا لیکن ان کمپنیوں نے بھی بولی میں لگائ گئی قیمت کے مطابق ایل این جی کارگو فراہم کرنے سے انکار کر دیا۔

حال ہی میں عالمی مارکیٹ میں ایل این جی کی قیمتوں میں اتار چڑھائو دیکھنے میں آیا ہے، اس کے ساتھ شمالی ایشیائی ممالک کی جانب سے گیس کی خریداری میں اضافہ بھی ہوا ہے جس کے باعث ایل این جی کی رسد میں کمی واقع ہوئی ہے اور پاکستان کو بھی عالمی کمپنیوں کی جانب سے انکار کی بظاہر یہی وجہ نظر آتی ہے۔

ایل این جی مارکیٹ سے سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق کئی عالمی کمپنیوں نے اپنی بولیوں سے انحراف کیا ہے اور بعض کیسز میں یہ کمپنیاں سپلائی بحران اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باعث اپنے معاہدوں سے ہی پِھر گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے:

گیس بحران سے نبردآزما ہونے کیلئے صنعتوں کیلئے نئے کنکشن دینے پر پابندی

20 ملین ٹن ایل این جی منتقلی کرکے اینگرو ایلنجی ٹرمینل نے ریکارڈ قائم کر دیا

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا آر ایل این جی سے متعلق وزارت پٹرویم کی بریفنگ پرعدم اطمینان

جن سپلائرز نے پی ایل ایل کے جاری کردہ ٹینڈر میں بولیاں لگانے کے بعد کارگو فراہم کرنے سے انکار کیا ان میں حکومت کے ماتحت کمپنیاں اور ایل این جی کے بین الاقوامی تاجر بھی شامل ہیں۔

پی ایل ایل عالمی  مارکیٹ میں موجودہ قیمتوں پر گیس دوبارہ منگوانے پر بھی کام کر رہی ہے اور فروری میں اضافی گیس کی ضرورت ہوئی تو متبادل ذرائع سے اضافی کارگو منگوانے کی کوشش کی جائے گی۔

اس سے قبل، 13 جنوری کو پاکستان نے ملکی تاریخ میں پہلی بار ایل این جی کی درآمد کے لیے نجی سیکٹر کی دو کمپنیوں کو لائسنس جاری کیے تھے۔ اوگرا نے مذکورہ دونوں کمپنیوں کو 10 سالہ مدت کے لیے ایل این جی درآمد کرنے کے لائسنس جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت کا مقصد بین الاقوامی مارکیٹ میں ایل این جی درآمد کے حوالے سے مسابقت کے لیے نجی سیکٹر کی حوصلہ افزائی کرنا ہے اور مسابقت کے باعث قیمتیں کم ہونے کا بھی امکان ہے۔

اسی طرح پی ایل ایل نے ایک اور ٹینڈر جاری کیا ہے جس میں فروری سے جولائی 2021ء تک نجی سیکٹر کو ایل این جی ٹرمینلز مختص کرنے کے لیے بولی لگانے کا کہا گیا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here