نئے سال میں ایک کے بعد دوسرا جھٹکا، حکومت نے ایل پی جی بھی مہنگی کر دی

213

اسلام آباد: حکومت نے یکم جنوری2021 سے لیکویفائیڈ پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی قیمتوں میں 16 روپے فی کلوگرام اضافہ کر دیا۔

آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کے ایک نوٹی فکیشن کے مطابق یکم جنوری 2021 سے ایل پی جی کی قیمتوں میں 16 روپے فی کلوگرام اضافہ سے گھریلو استعمال کا ایل پی جی سیلنڈر 188 روپے مہنگا اور کمرشل صارفین کے لیے فی سیلنڈر 722 روپے مہنگا ہو گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق یکم جنوری (آج) سے ایل پی جی 148 روپے فی کلوگرام پر دستیاب ہو گی، جنوری 2021 میں گھریلو سیلنڈر 1741 روپے جبکہ کمرشل سیلنڈر 6697 روپے میں دستیاب ہو گا۔

اس سے قبل، دسمبر 2020 میں ایل پی جی 132 روپے فی کلوگرام اور گھریلو سیلنڈر 1553 روپے جبکہ کمرشل سیلنڈر 5976 روپے میں دستیاب ہوتا تھا۔

یہ بھی پڑھیے:

عوام کیلئے نئے سال کا تحفہ، پٹرول، ڈیزل مہنگا

پانچ ماہ میں پٹرولیم مصنوعات کے درآمدی بل میں ایک ارب 16 کروڑ ڈالر کمی

مہنگائی کا ایک اور جھٹکا، حکومت نے ایل پی جی مہنگی کردی

ایل پی جی انڈسٹریز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چئیرمین عرفان کھوکھر نے کہا ہے کہ ایل پی جی کے زائد لیوی اور دیگر ٹیکسوں سے پہلے ہی مشکلات تھیں، انہوں نے حکومت سے ان ٹیکسوں کو ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر ان کے مطالبات پورے نہ کیے گئے تو 15 جنوری سے ایل پی جی سیکٹر ملک بھر میں غیرمعینہ مدت کے لیے ہڑتال شروع کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ نامناسب پالیسیوں اور ٹیکسوں کی بھرمار سے ایل پی جی انڈسٹری پر منفی اثرات پڑ رہے ہیں۔ “ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ٹیکسوں کی مد میں چھ ارب روپے ادا کر رہے ہیں۔ اگر یہ غیرضروری بوجھ نہ ہٹایا گیا تو ہمارے پاس ملک گیر ہڑتال کے علاوہ کوئی اور راستہ نہ ہو گا”۔

کھوکھر نے اس بات پر زور دیا کہ تفتان بارڈر پر ایل پی جی کی درآمد پر لیوی ٹیکس لاگو نہیں کیا جانا چاہیے، اس اقدام سے صارفین کے لیے ایل پی جی مزید مہنگی ہو جائے گی۔

یہ بھی واضح رہے کہ ایل پی جی دیگر گیسز کی نسبت سب سے زیادہ ماحول دوست فوسل فیولز ہونے کے علاوہ کم لاگت اور موزوں گیس ہے۔ یہ گیس ملک کے پہاڑی اور دوردراز کے علاقہ جات میں ضروریاتِ زندگی کے مقاصد کے لیے استعمال کی جارہی ہے۔ ملک میں 40 ہزار سے زائد گھر ایل پی جی استعمال کر رہے ہیں جبکہ 10 ہزار سے زائد گاڑیوں میں بھی یہی گیس استعمال کی جارہی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here