انڈسٹریل اسٹیٹس میں صنعتی یونٹس قائم نہ کرنے والوں کو زمین کی الاٹمنٹ منسوخ کرنے کا فیصلہ

1992ء سے جن افراد نے انڈسٹریل اسٹیٹس میں پلاٹ لے رکھے ہیں لیکن صنعتیں نہیں لگائیں وہ یا تو صنعتی یونٹ لگائیں یا پھر اراضی کی الاٹمنٹ منسوخ سمجھیں: پنجاب حکومت کا فیصلہ

265

لاہور: پنجاب حکومت نے انڈسٹریل اسٹیٹس میں صنعتی یونٹس نہ قائم کرنے والوں کی اراضی کی الاٹمنٹ منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، یہ اراضی 1992 میں الاٹ کی گئی تھی، جس کا مقصد صنعتکاری کا فروغ تھا۔

صوبائی وزیرصنعت و تجارت میاں اسلم اقبال نے گجرانوالہ میں سمال انڈسٹریل اسٹیٹ کا دورہ کیا، اس موقع پر گجرانوالہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عمر اشرف مغل اور کاروباری برادری کے ارکان ان کے ہمراہ تھے۔

صوبائی وزیر نے گجرانوالہ میں قائم کیے گئے چاروں سمال انڈسٹریل اسٹیٹس کا دورہ کیا اور ان انڈسٹریل اسٹیٹس کے ترقیاتی کاموں کا جائزہ لیا۔

صوبائی وزیر نے اس موقع پر اعلان کیا کہ جن لوگوں کے پاس انڈسٹریل اسٹیٹ میں پلاٹس ہیں وہ جلد سے انڈسٹریل یونٹس قائم کر لیں بصورتِ دیگر ان کے پلاٹس کی ملکیت کو منسوخ کر دیا جائے گا۔

انڈسٹریز ڈیپارٹمنٹ میں ذرائع نے نمائندہ پرافٹ اردو کو بتایا کہ کچھ لوگوں کو گجرانوالہ میں مختلف انڈسٹریل اسٹیٹ میں 1992 میں زمین الاٹ کی گئی تھی لیکن اس اراضی پر ابھی تک نہ ہی کوئی انڈسٹریل یونٹ لگایا گیا اور نہ ہی کسی قسم کے تعمیراتی کام کا آغاز کیا گیا ہے۔

ذرائع کو لگتا ہے کہ جن لوگوں کے نام پر اراضی منتقل کی گئی تو اس وقت 1992 میں لوگوں نے سرمایہ کاری کی غرض سے کم قیمت پر مذکورہ زمین اپنے نام الاٹ کرائی تھی لیکن انہوں نے یہاں انڈسٹریل یونٹس قائم ہی نہیں کیے۔

یہ بھی پڑھیے:

خیبرپختونخوا میں صنعتی ترقی کیلئے چھ اقتصادی زونز پر کام جاری

حکومت گوجرانوالا میں ایکسپو سینٹر، خصوصی اقتصادی زون قائم کرے گی

علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی کو گیس فراہمی، سوئی ناردرن نے 839 ملین طلب کر لئے

ذرائع کے مطابق متعدد سرمایہ کار سمجھتے ہیں کہ انفراسٹرکچر بہتر ہونے سے یہ زمین مہنگی ہو گی اور یہ جگہ سرمایہ کاروں کے لیے زیادہ موزوں ہونے کے باعث وہ اسے اچھی قیمتوں پر فروخت کر سکیں گے۔

لیکن اب حکومت کی بنائی گئی پالیسی کے تحت جس کسی کے پاس بھی انڈسٹریل اسٹیٹ میں اراضی ہے اسے کسی بھی صورت میں یہاں انڈسٹریل یونٹ قائم کرنا ہو گا اور اگر اسے اراضی بیچنے کی ضرورت ہے تو اسے صرف زمین ہی نہیں بلکہ پورا یونٹ ہی فروخت کرنا پڑے گا۔

لوگوں کے پاس اراضی موجود ہونے کے باوجود یہاں انڈسٹریل زونز قائم نہیں کیے گئے، وزیر صنعت و تجارت کو اس حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی جس میں مقررہ مدت کے اندر انڈسٹریل یونٹ نہ لگانے والوں کی الاٹمنٹ منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

سمال انڈسٹریل اسٹیٹ کی انتظامیہ کی جانب سے صوبائی وزیر کو بریفنگ دی گئی جس میں انہیں بتایا گیا کہ سمال انڈسٹریل اسٹیٹ فور 150 ایکٹر پر بنائی گئی جہاں پانچ مرلہ سے 44 ایکٹر کے انڈسٹریل پلاٹس دستیاب ہیں جن کی تعمیر حتمی مراحل میں ہے۔

صوبائی وزیر اسلم اقبال نے انڈسٹریل اسٹیٹس میں ترقیاتی کاموں کو تیز کرنے کی ہدایت بھی دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ “انڈسٹریل اسٹیٹ کی مکمل سیٹلمنٹ حکومت کی پالیسی ہے۔ پراجیکٹ کے مکمل ہونے سے مقامی انڈسٹری اور چاروں سمال انڈسٹریل اسٹیٹس میں صنعتی یونٹس کے قیام سے علاقے میں معاشی سرگرمیوں اور تجارت کو فروغ ملے گا جس کے نتیجے میں شہریوں کے لیے روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here