کیا حکومت نے واقعی عالمی منڈی سے سستی ایل این جی مہنگے داموں خریدی؟

سابق حکومت نے ایل این جی کو گیس کی بجائے پٹرولیم مصنوعات کے ساتھ شامل رکھا، بوجھ صارفین پرپڑا، 2017-18ء میں 18 ایل این جی کارگوز مہنگے خریدے گئے، موجودہ حکومت نے سستی ایل این جی خریدی: معاون خصوصی برائے پٹرولیم ندیم بابر

620

اسلام آباد: وزیراعظم  کے معاون خصوصی برائے پٹرولیم ندیم بابر نے ایل این جی کی خرید وفروخت کے طریقہ کار سے متعلق منفی اور قیاس آرائیوں پر مبنی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سابق حکومت نے ایل این جی درآمد کرنے کا فیصلہ کرتے وقت اس کو ذخیرہ کرنے کے معاملہ پر کوئی توجہ نہیں دی۔

ندیم بابر نے کہا  ایل این جی کو گیس کی بجائے پٹرولیم مصنوعات کا حصہ بنانے سے ایل این جی استعمال کرنے والے ہر صارف کو اس کی پوری قیمت ادا کرنا پڑتی ہے، دسمبر 2017ء اور دسمبر 2018ء میں 18 ایل این جی کارگوز 8 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کی قیمت پر خریدے گئے، موجودہ حکومت نے رواں سال دسمبر اور اگلے سال جنوری کیلئے 6.34 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کی قیمت پر 23.5 ایل این جی کارگوز خریدے ہیں۔

گزشتہ روز مختلف ویڈیو ٹویٹس میں ندیم بابر نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے ایل این جی ذخیرہ کرنے کا انتظام کئے بغیر اس کی درآمد شروع کی اور اسے گیس کی بجائے پٹرولیم مصنوعات کی کیٹیگری میں رکھا جس کی قیمت مقامی پیدا ہونے والی گیس سے تقریبا دُگنا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: 

پہلے نجی ایل این جی ٹرمینل کی تعمیر جنوری 2021ء میں شروع ہو گی

ملک بھر میں گیس کی قلت، حکومت کا ایل این جی کے 12 کارگو منگوانے کا فیصلہ

کراچی، سوئی سدرن سسٹم میں آر ایل این جی شامل کرنے کیلئے بن قاسم سے پائپ لائن منصوبے پر کام شروع

انہوں نے کہا کہ ایل این جی ذخیرہ کرنے کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے ہر ایل این جی کارگو کے استعمال میں چار سے پانچ دن لگتے ہیں جس کے بعد دوسرا کارگو لنگر انداز ہوتا ہے۔

ندیم بابر نے کہا کہ موسم گرما میں کم قیمت کے دوران ایل این جی نہ خریدنے کا سوال بھی معلومات کی کمی کا نتیجہ ہے، یہ ریکارڈ ہے کہ موجودہ حکومت نے موسم گرما میں ہر اُس صارف کو ایل این جی فراہم کی ہے جس نے بھی اس کا مطالبہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت پر یہ بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ موسم گرما میں بجلی کی پیداوار میں تیل کا استعمال کیا گیا اور وافر ایل این جی کیوں نہیں خریدی گئی۔ یہ الزام بھی سراسر غلط، قیاس آرائیوں اور غلط معلومات کا نتیجہ ہے۔

معاون خصوصی برائے پٹرولیم نے کہا کہ سابق حکومت نے اپنے دور میں آخری موسم گرما میں تیل کے ذریعے کل بجلی کی 28 فیصد پیداوار حاصل کی جبکہ موجودہ حکومت نے 2019ء کے موسم گرما میں صرف پانچ فیصد اور رواں سال کے 11 ماہ میں کل بجلی کی 3.6 فیصد پیداوار تیل سے حاصل کی ہے، اس سلسلہ میں تمام اعدادوشمار نیپرا کی ویب سائٹ پر موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے آخری سال میں فروری 2018ء میں 10.25 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کی قیمت پر مہنگی ایل این جی خریدی اور ٹینڈر کھلنے اور گیس کی ترسیل کے دورانیہ میں تقریبا 71 دن کا فرق تھا۔

’’رواں سال اگست میں حکومت نے پچھلے پانچ سال کے عرصہ میں سستی ترین ایل این جی خریدی اور ٹینڈر کھلنے اور گیس کی ترسیل کے دورانیہ میں صرف 39 دن کا فرق تھا۔‘‘

ندیم بابر کے بقول موجودہ حکومت نے ایل این جی کے تمام کارگوز ٹینڈر کھلنے اور گیس کی ترسیل کے دورانیہ میں 61 سے 62 دنوں کے اوسطاََ فرق کے ساتھ خریدے ہیں جبکہ رواں سال دسمبر اور جنوری 2021ء کیلئے 45 سے 50 دنوں کے فرق کے ساتھ ایل این جی حاصل کی گئی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here