پہلے نجی ایل این جی ٹرمینل کی تعمیر جنوری 2021ء میں شروع ہو گی

270

اسلام آباد: ملک میں جنوری 2021ء کے اختتام تک ایل این جی کے پہلے نجی ٹرمینل پر تعمیراتی سرگرمیوں کا آغاز کیا جائے گا۔

حکومت کی ‘کاروبار کرنے میں آسانی’ لانے کی حکمتِ عملی کے تحت توانائی کے شعبے کو بین الاقوامی کمپنیوں کے لیے کھول دیا گیا ہے جس کے بعد ایک بین الاقوامی کمپنی ایل این جی کے پہلے ٹرمینل پر کام کا آغاز کرے گی۔

اس پیشرفت سے تعلق رکھنے والے باخبر ذرائع نے سرکاری خبر رساں ایجنسی اے پی پی کو بتایا کہ “نجی سیکٹر کے پہلے ایل این جی ٹرمینل کے فریم ورک کی منصوبہ بندی پر کام جاری ہے جس کے تحت جنوری 2021 کے آخر تک اس کی تعمیر پر کام شروع کر دیا جائے گا جبکہ ایک دوسرے ٹرمینل پر آئندہ سال کی دوسری ششماہی میں کام شروع کیا جائے گا”۔

حکام کے مطابق آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) ایک سے دو روز کے اندر کنسٹرکشن لائسنس جاری کرے گا جبکہ دیگر تمام معاہدے، اجازت نامے اور انتظامات کو بھی حتمی شکل دی جا چکی ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

ملک بھر میں گیس کی قلت، حکومت کا ایل این جی کے 12 کارگو منگوانے کا فیصلہ

گیس بحران سے نبردآزما ہونے کیلئے صنعتوں کیلئے نئے کنکشن دینے پر پابندی

ٹرمینل کے قیام کے بعد کمپنیاں اپنے طور پر ایل این جی کی درآمد یا اسے فروخت کر سکیں گی، حکومت قانونی معاملات سے قطع نظر اس عمل میں دخل اندازی نہیں کرے گی۔

یہ بھی مدِنظر رہے کہ موجودہ قدرتی گیس کے ذخائر سالانہ 9.5 فیصد کی شرح سے تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔ ملک میں طلب و رسد کے بڑھتے ہوئے خلاء کو پورا کرنے کے لیے ایل این جی کو استعمال کیا جا رہا ہے۔

اس وقت پاکستان کے مختلف علاقوں سے نکلنے والی گیس کی پیداوار 3.7 ارب کیوبک فٹ یومیہ ہے جبکہ ملک میں طلب 6 ارب کیوبک فٹ یومیہ ہے۔

اوگرا کی جانب سے ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق 2030ء تک گیس کی طلب و رسد کے درمیان یہ خلا 5389 ملین کیوبک فٹ یومیہ (ایم ایم سی ایف ڈی) تک جا سکتا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here