غیر قانونی فروخت روکنے کیلئے پٹرولیم ایکٹ میں ترمیم کی تجویز

پیٹرولیم ایکٹ میں ترمیم کے بعد پیٹرولیم کارگو میں آگ لگنے کے حادثات کو کنٹرول جبکہ انسانی جانوں کے ضیاع کی صورت میں آئل کمپنیاں ورثاء کو 10 ملین روپے تک معاوضہ دینے کی پابند ہوں گی

211

اسلام آباد: پیٹرولیم مصنوعات کی غیرقانونی فروخت روکنے اور عالمی معیار کی تعمیل کے لیے پٹرولیم ڈویژن نے کابینہ کمیٹی برائے ڈسپوزل آف لیجسلیٹو کیسز (سی سی ایل سی) سے پیٹرولیم ایکٹ 1934ء میں مجوزہ ترمیم کی منظوری دینے کا مطالبہ کر دیا۔

باوثوق ذرائع نے پرافٹ اردو کو بتایا کہ پیٹرولیم ڈویژن نے پیٹرولیم ایکٹ 1934ء میں ترمیم کے لیے کابینہ کمیٹی کو سفارشات بھجوائی ہیں، کمیٹی نے ایکٹ میں ترمیم کی منظوری دے دی تو ہو سکتا ہے کہ وفاقی کابینہ بھی پیٹرولیم مصنوعات کو ریگولیٹ کرنے کیلئے اسے بطورایک نیا قانون منظور کر لے۔

پٹرولیم ایکٹ میں مجوزہ ترامیم کا مقصد ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی غیرقانونی خرید و فروخت روکنا، پٹرول کارگو کی نقل و حمل کے دوران آگ لگنے سے ہونے والے حادثات کی روک تھام اورعالمی معیار کی پیروی یقینی بنانا ہے، پیٹرولیم کارگو کی نقل و حمل کے دوران انسانی جانوں کے ضیاع کی صورت میں آئل کمپنیوں کو جرمانے کی رقم کو بڑھا کر ایک کروڑ کر دیا جائے گا۔

ذرائع نے بتایا کہ کابینہ کمیٹی آئندہ اجلاس میں پیٹرولیم ایکٹ 1934ء کی منظوری دے سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

ہسکول پٹرولیم کا خیبر پختونخوا کیلئے لائسنس معطل، ایک کروڑ روپے جرمانہ

پٹرولیم ڈویژن کا ایک کھرب سے زائد گردشی قرضہ، ای سی سی نے کمیٹی بنا دی

واضح رپے کہ لاہور ہائی کورٹ احمد پور شرقیہ میں آئل ٹینکر کے حادثے کے نتیجے میں انسانی جانوں کے ضیاع کے حؤالے سے کیس میں حکومت کو پیٹرولیم ایکٹ 1934ء کے سیکشن 23 پر نظرثانی کی ہدایت کر چکی ہے، مذکورہ سیکشن کے تحت لائسنس کی تجدید نہ کروانے پر محض 500 روپے جرمانہ کیا جا سکتا ہے۔

24 نومبر 2017ء کو کابینہ ڈویژن نے تمام وزارتوں کی ماتحت ڈویژنز کو قانون اور انصاف ڈویژن کے ساتھ مشاورت کر کے متعلقہ قوانین میں ترمیم کرنے کا حکم دیا تھا۔

اس سے قبل پیٹرولیم ایکٹ 1934ء کے سیکشن 23 کے تحت آئل مارکیٹنگ کمپنیز (او ایم سیز) اور ڈیلرز کو لائسنس کی تجدید نہ کروانے کی صورت میں صرف 500 روپے جرمانہ کیا جاتا تھا، نیا قانون متعارف ہونے کے بعد ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی غیرقانونی فروخت پر پابندی ہو گی۔

پرافٹ اردو کو معلوم ہوا ہے کہ قانون و انصاف ڈویژن کی جانب سے باضابطہ طور پر تجویز کردہ ترمیم کی منظوری کے بعد ایکٹ کو پیٹرولیم (ترمیمی) ایکٹ 2020ء کا نام دیا جائے گا جس کا اطلاق بھی فوری ہو گا۔

پیٹرولیم ایکٹ کی خلاف ورزی کرنے والوں کو انسانی جانوں کے ضیاع یا کسی حادثے کی صورت میں ایک کروڑ روپے تک جرمانہ کیا جا سکے گا۔ اسی طرح نئے قانون کے تحت مجرمان کے کیسز کی سماعت فرسٹ کلاس جوڈیشل مجسٹریٹ کرے گا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here