‘2023ء سے قبل معاشی بحالی کا امکان نہیں’

221
Photo Credit: ShutterStock

برسلز: یورپی یونین (ای یو) نے خبردار کیا ہے کورونا وائرس کی دوسری لہر سے یورپ کی معیشت کو ایک بار پھر شدید دھچکا لگنے کا خطرہ ہے اور  معاشی صورت حال 2023ء سے قبل وبا سے پہلے کی سطح پر نہیں آ پائے گی۔

یورپی یونین میں معاشی امور کے کمشنر پاؤلو گینٹیلونی (Paolo Gentiloni) نے معیشت سے متعلق نئے اعدادوشمار جاری کرتے صحافیوں کو بتایا کہ کورونا کی دوسری لہر سے معاشی بہتری کی صورت حال میں خلل آ گیا ہے۔

یورپ میں کورونا کی دوسری لہر شدت اختیار کر رہی ہے اور ایسے میں معاشی بہتری کی امیدوں پر پانی پھر گیا ہے، نقصانات سے بچنے کے لیے معیشت کے لیے مزید امدادی پیکیج جاری کرنے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

گینٹیلونی نے کہا کہ ہم نے کبھی V-shaped بحالی کا سوچا نہیں تھا، اب ہمیں یقین ہے کہ ہمارے پاس کچھ نہیں ہو گا۔ اپنے تخمینے میں انہوں نے بیروزگاری کی سطح بڑھنے اور یورپی ممالک کے قرضوں میں اضافے کی نشاندہی کی ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

’عالمی معیشت 4.4 فیصد تک سکڑنے کا خدشہ، صرف چین کی اقتصادی نمو مثبت رہے گی‘

کورونا کی دوسری لہر، تیل کی عالمی منڈی میں قیمتوں میں گراوٹ کا سلسلہ دوبارہ شروع

یورپین کمشنر نے کہا کہ جولائی میں ان کا اندازہ تھا کہ معاشی نمو کی شرح 6.1 فیصد تک جائے گی تاہم اب اس کے برعکس آئندہ سال تک یورو زون کی معیشت صرف 4.2 فیصد تک رہنے کی توقع ہے۔

واضح رہے کہ یونائٹڈ نیشنز کانفرنس آن ٹریڈ اینڈ ڈویلپمنٹ (یو این سی ٹی اے ڈی) کی ’دی ٹریڈ اینڈ ڈویلپمنٹ رپورٹ 2020‘ میں کہاگیا ہے کہ کووڈ۔19 کی وباء کے باعث اقتصادی سست روی کے نتیجہ میں 2021ء کے اختتام تک مجموعی عالمی پیداوار کو 12 کھرب ڈالر کے نقصان کا خدشہ ہے۔

ٹی ڈی آر 2020ء کے مطابق دنیا بھر کی نظریں اب سال 2021ء پر ہیں جس میں معاشی سرگرمیوں کی بحالی متوقع ہے اور آئندہ سال کے اختتام تک ترقی کے بعض مسائل کے مکمل خاتمہ میں مشکلات کے علاقہ متعدد ممالک میں مالیاتی مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here