ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز کو ڈیوٹی ڈراء بیک ریٹ پر نظر ثانی کی یقین دہانی

219

لاہور: ان پٹ آؤٹ پٹ کوایفیشنٹ آرگنائزیشن (آئی او سی او) نے آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) کی قیادت کو برآمدات پر ڈیوٹی ڈراء بیک ریٹس پر نظرثانی کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

اس حوالے سے نارتھ زون میں آئی او سی او کی ڈائریکٹر جنرل سعدیہ منیب نے اپٹما کی قیادت اور اراکین کے ساتھ ملاقات کی جہاں انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ موجودہ ڈیوٹی ڈراء بیک نوٹی فکیشن 2009ء میں جاری کیا گیا تھا، 11 سال قبل جاری کیے گئے ٹیرف کے ریٹس تبدیل ہو گئے ہیں جنہیں اپڈیٹ کرنے کی ضرورت ہے۔

چئیرمین اپٹما پنجاب عبدالرحیم ناصر، نائب صدر اپٹما پنجاب کامران ارشد اور اپٹما پنجاب کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر رضا باقر نے ڈائریکٹر جنرل سعدیہ منیب کو ٹیکسٹائل سیکٹر کی برآمدات سے متعلق درپیش مسائل کے بارے میں آگاہ کیا اور برآمدکنندگان کو موجودہ معاشی بحران سے ریلیف فراہم کرنے کے لیے جلد ڈیوٹی ڈراء بیک ریٹس پر نظرثانی کا مطالبہ کیا۔

یہ بھی پڑھیے:

کپاس کی پیداوار میں 43 فیصد کمی، ٹیکسٹائل سیکٹر، برآمدات متاثر ہونے کا خدشہ

صنعتوں کیلئے سستی بجلی، بلوں کی مد میں 30 ارب کا نقصان، کیا کچھ فائدہ بھی ہو گا؟

اپٹما کی قیادت نے حکومت سے قوانین میں ترمیم کرنے اور ٹیکس سسٹم کو آسان کی درخواست کی تاکہ ایس ایم ایز سیکٹر اور ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل سیکٹر کو سہولیات دے کر برآمدات میں اضافہ کیا جائے۔

چئیرمین اپٹما پنجاب نے کہا کہ مارکیٹ میں شفافیت کے فقدان اور برآمدات کیلئے نئی منڈیوں کی تلاش نہ کرنے کے باعث چھوٹے کاروباروں کو اربوں روپے کے نقصان کا خطرہ ہے۔

انہوں نے کاروباری لاگت میں اضافے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انڈسٹری مناسب منصوبہ بندی یا سپورٹ کے بغیر عالمی منڈی کا مقابلہ کر رہی ہے جبکہ بھارت اور چین جیسے حریف ممالک اس مد میں تمام وسائل کو بروئے کار لا رہے ہیں۔

ٹیکسٹائل سیکٹر کو درپیش مسائل کے حوالے سے اپٹما کے موقف سے اتفاق کرتے ہوئے ڈائریکٹر آئی او سی او نے چئیرمین اپٹما کو یقین دلایا کہ آئی او سی او معاملے کا جائزہ لے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی بورڈ برائے ریونیو(ایف بی آر) نے برآمداتی اشیا پر ڈیوٹی ڈراء بیک کے ریٹس اور نجی سیکٹر کے ساتھ رابطے کے ذریعے ان پٹ آؤٹ پٹ ریٹس کا جائزہ لینے کے لیے آئی او سی او ڈائریکٹوریٹ جنرل قائم کیا ہے۔

سعدیہ منیب نے کہا کہ پاکستان کسٹمز نے کئی شعبوں کے لیے ڈیوٹی ڈراء بیک کی زائد شرح پر نظرثانی کی، ہماری مصنوعات کی عالمی مسابقت بڑھانے اور برآمدات میں اضافے کے پیش نظر ‘میک ان پاکستان’ کا اقدام اٹھایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ آئی او سی او برآمدات کی سکیم کو آسان کرنے پر کام کر رہی ہے اور برآمداتی انڈسٹری کو جدید ڈویلپمنٹ اور متعلقہ ٹیکنالوجیز کے رجحان میں تبدیلوں سے آشنا رکھنے کے لیے کاروباری برادری کو نئی مراعات فراہم کررہی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here