’چین رواں سال مثبت شرح نمو پانے والی واحد بڑی معیشت ہو گی‘

چین نے وبا کو قابو کرنے کیلئے فیصلہ کن اقدامات کیے، معاشی بحالی میں مدد کے لئے مضبوط مالیاتی پالیسیاں نافذ کیں، صدر آئی ایم ایف

61

واشنگٹن: بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی وباء کے خلاف سخت اقدامات اٹھائے جانے کی وجہ سے چین میں معاشی نمو کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے اور چین رواں سال مثبت شرح نمو پانے والی واحد بڑی معیشت ہو گی اور یہ عالمی معیشت کے لئے ایک قوت محرکہ ثابت ہو گی۔

عالمی مالیاتی ادارے اور ورلڈ بینک کے موسم خزاں کے سالانہ اجلاس 2020ء میں ایک ویڈیو کانفرنس کے دوران آئی ایم ایف کی صدر کرسٹا لینا جارجیوا نے کہا کہ آئی ایم ایف کی تازہ ترین ورلڈ اکنامک آؤٹ لک رپورٹ نے چین کی معاشی نمو کی پیش گوئی دو اہم عوامل کی بنیاد پر کی ہے۔

پہلا یہ کہ چین نے وبا کو قابو کرنے کے لئے فیصلہ کن اقدامات اٹھائے اور دوسرا یہ کہ چین نے معاشی بحالی میں مدد کے لئے مضبوط مالی اور مالیاتی پالیسیاں نافذ کیں۔

یہ بھی پڑھیے: 

2019ء میں عالمی ڈیجیٹل معیشت میں امریکہ پہلے، چین دوسرے نمبر پر رہا

مالی سال 2021 میں پاکستانی معیشت کس حال میں ہوگی؟ آئی ایم ایف رپورٹ جاری

’عالمی معیشت 4.4 فیصد تک سکڑنے کا خدشہ، صرف چین کی اقتصادی نمو مثبت رہے گی‘

انہوں نے نشاندہی کی کہ چین کورونا وائرس کی ویکسین کی عالمی تحقیق اور ترقی میں بھی حصہ لے رہا ہے جو اس وبا سے لڑنے میں عالمی اعتماد کو مضبوط بنانے میں مدد کرتا ہے۔

واضح رہے کہ آئی ایم ایف نے حال ہی میں ورلڈ اکنامک آؤٹ لک رپورٹ جاری کی ہے جس میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ رواں سال عالمی معیشت میں 4.4 فیصد کی کمی واقع ہو گی۔

رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ اہم معیشتوں میں صرف چین کی اقتصادی نمو مثبت رہنے کی توقع ہے جو 2.3 فیصد ہو گی جبکہ امریکہ اور یورپی یونین کی معیشت بالترتیب 6.5 اور 8.4 فیصد تک سکڑنے کا امکان ہے تاہم ایک تہائی ماہرین کا خیال تھا کہ عالمی معیشت 2022ء تک وبا سے قبل کی صورت حال کے مطابق بحال ہو جائے گی۔

اس سے قبل عالمی بینک نے جنوبی ایشیائی ممالک کی معیشتوں کے بارے میں اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ وبا کے نتیجے میں جنوبی ایشیائی معیشتوں کو اندازے سے کہیں زیادہ نقصان پہنچا ہے، ان ممالک میں سب سے زیادہ متاثر درمیانے درجے کے کاروبار اور غیر رسمی ملازمین ہوئے ہیں جنھیں وباء کے باعث اچانک نوکریوں سے ہاتھ دھونا پڑے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق جنوبی ایشیائی معیشتوں میں پاکستان کی جی ڈی پی  گروتھ  سب سے کم رہنے کا امکان ہے۔ بنک کے مطابق مالی سال 2021 میں  پاکستان کی شرح نمو 0.5 فیصد رہے گی اور ملک کے لیے آئندہ دو سال معاشی طور پر انتہائی مشکل ہوں گے۔

رپور ٹ میں مالی سال 2021 میں بھارت کی  شرح نمو، 5.4 فیصد، مالدیپ کی 9.3 فیصد، سری لنکا کی 3.5 فیصد، افغانستان کی ڈھائی فیصد،  بنگلہ دیش کی 1.6 فیصد، بھوٹان کی 0.6 فیصد اور پاکستان کی معاشی شرح نمو  0.5 فیصد رہنے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔

 

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here