وزارت آئی ٹی کی نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے معاملات چلانے کیلئے ایگزیکٹو آرڈر جاری کرنے کی درخواست

323

اسلام آباد: وزارتِ انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی نے وفاقی کابینہ سے نیشنل انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی بورڈ (این آئی ٹی بی) کے معاملات چلانے کے لیے ایگزیکٹو آرڈر جاری کرنے کی درخواست کر دی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں این آئی ٹی بی کے مسائل پر بات چیت کی جائے گی۔

گزشتہ سال کابینہ کی جانب سے این آئی ٹی بی کو خودمختار ادارہ قرار دینے کا آرڈی نینس جاری کیا گیا تھا تاہم رواں سال 19 اپریل کو این آئی ٹی بی آرڈی نینس کی مدت ختم ہو گئی تھی جبکہ قانون سازی کے لیے بل ابھی تک زیرِالتواء ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

ریڈار ٹیکنالوجی کی حامل منفرد موٹرسائیکل تیار  

پاکستان نے تیل اور گیس کی درآمد کیلئے آئی ٹی ایف سی کے ساتھ معاہدے پر دستخط کر دئیے

عبوری مدت کے دوران ایک انتظامی بورڈ کے ذریعے این آئی ٹی بی کے معاملات چلانے کیلئے قانونی چارہ جوئی کرنا ہو گی۔

این آئی ٹی بی وفاقی حکومت کے تمام محکموں اور ڈویژنوں کو ای گورننس کی سروسز فراہم کر رہا ہے، ان میں حکومتی اداروں، کاروبار کمپنیوں، عام شہریوں اور سرکاری ملازمین کو ای گورننس سے متعلق خدمات کی فراہمی شامل ہے۔

اس کے علاوہ این آئی ٹی بی کی ذمہ داری میں اسلام آبادی کیپیٹل ٹیریٹری (آئی سی ٹی) کی سروسز کے لیے سٹینڈر ڈویلپنگ، سائبر سکیورٹی، وفاقی ملازمین کی آئی ٹی کی صلاحیت میں اضافہ، مشترکہ پلیٹ فارمز کی فراہمی اور گورننس پر وفاقی حکومت کی ڈویژنوں کو مشاورتی خدمات فراہم کرنا شامل ہیں۔

وزارتِ آئی ٹی نے وفاقی حکومت سے 19 نئی پوزیشنز اور محکمے کے دیگر اخراجات کے لیے 689 ملین روپے کے اضافی بجٹ کی درخواست بھی کی ہے۔

حکومت کے 40 محکموں کو ای آفس پورٹل فراہم کرنے کے علاوہ 42 شہری خدمات کے ساتھ اسلام آباد سٹی ایپ، نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشنز سینٹر (این سی او سی) اور نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کو ہنگامی خدمات، یارانِ وطن، نیشنل جاب پورٹل، ویمن ایمپاورمنٹ (بیٹی) اور ای پولیسنگ کی سہولیات دینا این آئی ٹی بی کی بنیادی کامیابیوں میں شامل ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ این آئی ٹی بی نے مستقبل میں اسلام آباد سٹی ایپ کے علاوہ مزید سروسز فراہم کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے جن میں ای پالیسنگ، کابینہ کے فیصلوں کی ڈیجیٹائزیشن، خصوصی بچوں کے لیے پورٹل، ٹاسک ٹریکنگ اور مانیٹرنگ سسٹم، حکومتی ایپ اور ہسپتال مینجمنٹ سسٹم کی سرسز شامل ہوں گی، ان پر تین سے چھ ماہ کے اندر عملدرآمد کیا جائے گا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here