’44 بینک منی لانڈرنگ میں ملوث، ایف اے ٹی ایف بھارت کو گرے لسٹ میں شامل کرے‘

بھارتی بینکوں نے 1.53 ارب ڈالر سے زیادہ کی منی لانڈرنگ کی، رقم پاکستان کے خلاف استعمال ہو سکتی ہے، عالمی برادری نوٹس لے: ایف پی سی سی آئی

131

اسلام آباد: وفاق ایوان ہائے صنعت و تجارت پاکستان (ایف پی سی سی آئی) بزنس مین پینل نے ایف اے ٹی ایف سے مطالبہ کیا ہے کہ بھارت کے 44 بینکوں کے منی لانڈرنگ میں ملوث ہونے کے حوالہ سے تحقیقات کی تکمیل تک بھارت کو گرے لسٹ میں شامل کیا جائے۔

بھارتی بینکوں نے تین ہزار سے زیادہ ٹرانزیکشنز کے ذریعے 1.53 ارب ڈالر سے زیادہ کی منی لانڈرنگ کی ہے۔

ایف پی سی سی آئی کے سینئر رکن اور بزنس مین پینل کے فیڈرل سیکرٹری جنرل چوہدری احمد جواد نے ”اے پی پی“ سے خصوصی گفتگو کے دوران کہا کہ بھارت نے ہمیشہ بے بنیاد پراپیگنڈا کے ذریعے پاکستان کیلئے مشکلات پیدا کی ہیں۔ اب وقت ہے کہ عالمی برداری منی لانڈرنگ میں بھارت کے ملوث ہونے کا نوٹس لے کیونکہ پاکستان کو اس حوالہ سے شدید تشویش ہے۔ ہو سکتا ہے کہ منتقل کی گئی رقم پاکستان کے خلاف استعمال ہو۔

یہ بھی پڑھیے: 

فین سین فائلز: چھ پاکستانی بینک بھی مبینہ منی لانڈرنگ کے مرتکب

منی لانڈرنگ روکنے کیلئے وزیراعظم عمران خان کی عالمی برادری کو 9 تجاویز

مشکوک لین دین روکنے میں ناکامی، بڑے عالمی بینکوں کے منی لانڈرنگ کا مرتکب ہونے کا انکشاف

احمد جواد نے کہا کہ انٹر نیشنل کنسورشیم آف انویسٹی گیٹو جرنلسٹس (آئی سی آئی جے) نے امریکی بینکوں کی مشتبہ ٹرانزیکشنز (ایس اے آر) کی رپورٹ سے لئے گئے اعدادو شمار میں کہا ہے کہ 44 بھارتی بینک، جن میں نجی اور سرکاری بینک شامل ہیں، منی لانڈرنگ میں ملوث پائے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف کی تجاویز اور قواعدوضوابط کی بنیاد پر بھارت کے خلاف بھی اقدامات کئے جائیں اور منی لانڈرنگ کی تحقیقات کی تکمیل تک بھارت کو گرے لسٹ میں شامل کیا جائے۔

ایک سوال کے جواب میں احمد جواد نے کہا کہ بھارت ہمیشہ پاکستان میں عدم استحکام کے اقدامات میں ملوث رہا ہے اور اس حوالہ سے پاکستان میں جرائم پیشہ گروہوں کی باقاعدگی سے سرپرستی کرتا آیا ہے جس کا ایک حالیہ ثبوت کلبھوشن یادیو کا اعتراف جرم ہے۔

وزیر اعظم عمران کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب پر سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کا خطاب انتہائی مفصل اور مدلل تھا جس میں کشمیر تا فلسطین اور عالمی برادری کے مسائل کا بھرپور احاطہ کیا گیا ہے ۔ مزید برآں وزیر اعظم نے منی لانڈرنگ کی وجہ سے ترقی پذیر ممالک کی مشکلات کے حوالہ سے ترقی یافتہ ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے لوٹی گئی رقوم کی جلد از جلد واپسی کیلئے اقدامات کریں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here