منی لانڈرنگ روکنے کیلئے وزیراعظم عمران خان کی عالمی برادری کو 9 تجاویز

’سالانہ ایک کھرب ڈالر وائٹ کالر جرائم کے ذریعے منتقل ہوتے ہیں، 40 ارب ڈالر رشوت، 7 کھرب ڈالر محفوظ پناہ گاہوں میں جمع ہوتے ہیں، ملٹی نیشنل کمپنیاں سالانہ 600 ارب ڈالر ٹیکس چوری کرتی ہیں‘

105
ISLAMABAD, PAKISTAN, MAY 04: Prime Minister, Imran Khan addresses to the Volunteers of COVID-19 Relief Tiger Force, in Islamabad on Monday, May 4, 2020. (PPI Images).

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وائٹ کالر کرائم کے کے تدارک کے لئے بین الاقوامی سطح پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، مالیاتی جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لئے بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔

جمعرات کو نیویارک میں بین الاقوامی مالیاتی احتساب اور شفافیت اور سالمیت (ایف اے سی ٹی آئی) کے حوالے سے اعلیٰ سطح پینل کی عبوری رپورٹ کے افتتاح کے موقع پر ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان، نائیجیریا اور ناروے کی جانب سے عالمی سطح پر مالیاتی پینل کی تشکیل کا خیر مقدم کرتا ہے۔ وائٹ کالر کرائم کے ذریعے ترقی پذیر ممالک سے ہر سال اربوں ڈالر کی غیر قانونی منتقلی کی جاتی ہے۔ ہماری حکومت کو کرپشن کے خاتمے کا مینڈیٹ ملا ہے، ہم نے ملک میں اس حوالے سے بہت سے اقدامات کئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مالیاتی جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لئے بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ ہم ایف اے سی ٹی آئی پینل کی عبوری رپورٹ کا خیر مقدم کرتے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ رقوم کی غیر قانونی منتقلی کے حوالے سے رپورٹ میں جو اعداد و شمار کئے گئے ہیں حیران کن ہیں، ہر سال ایک کھرب ڈالر کی رقم وائٹ کالر جرائم کرنے والوں کے ذریعے منتقل کئے جاتے ہیں، 20 سے 40 ارب ڈالر وائٹ کالر جرائم کرنے والوں کے ذریعے رشوت کی صورت میں وصول کئے جاتے ہیں جبکہ 7 کھرب ڈالر کی رقم محفوظ پناہ گاہوں میں رکھی جاتی ہے اور ملٹی نیشنل کمپنیاں ہر سال 500 سے 600 ارب ڈالر کے ٹیکس چوری کرتی ہیں۔

عمران ان نے کہا کہ غریب اور ترقی پذیر ملکوں سے دولت کی غیر قانونی منتقلی کو فوری طور پر روکا جائے اور بین الاقوامی برادری کو اس سلسلے میں جامع حکمت عملی وضع کرنا ہو گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم نے 9 تجاویز پیش کیں۔

1۔ ترقی پذیر ممالک سے چوری کئے گئے اثاثوں، رشوت اور جرائم سے حاصل کی جانے والی رقم فوری طور پر واپس کی جائے۔

2۔ ایسے ممالک جہاں جرائم اور کرپشن کی رقم محفوظ کی گئی ہے وہاں کے حکام اپنے مالیاتی اداروں کے خلاف کارروائی کریں جو کہ اس طرح کی رقوم اور اثاثوں کو محفوظ کرتے ہیں۔

3۔ کرپشن اور رشوت میں سہولت فراہم کرنے والوں کی کڑی نگرانی اور ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔

4۔ غیر ملکی کمپنیوں کے ”بینیفیشیل اونرشپ” سے متاثرہ اور دلچسپی رکھنے والی حکومتوں کو فوری طور پر آگاہ کیا جائے۔

5۔ ملٹی نیشنل کارپوریشنز کو ٹیکس سے بچنے کے لئے ٹیکس چوروں کی جنت میں جانے کا موقع نہیں دینا چاہیے۔

6۔ رقوم کی ڈیجیٹل منتقلی پر ٹیکس وہاں وصول کیا جائے جہاں سے یہ ریونیو حاصل ہوتا ہے نہ کہ کہیں اور۔

7۔ غیر منصفانہ سرمایہ کاری معاہدوں کو منصفانہ بنانا ہو گا اور سرمایہ کاری معاہدوں کے تصفیے کے حوالے سے شفاف نظام وضع کرنا ہو گا۔

8۔ غیر قانونی طور پر رقوم کی منتقلی پر کنٹرول اور اس کی نگرانی کے لئے تمام سرکاری و غیر سرکاری اداروں میں دلچسپی رکھنے والے ممالک کو شامل کیا جائے۔

9۔ اقوام متحدہ کو رقوم کی غیر قانونی منتقلی سے متعلقہ مختلف سرکاری و غیر سرکاری باڈیز کے کام کو مربوط بنانے اور اس کی نگرانی کے لئے لائحہ عمل وضع کرنا چاہیے۔

وزیراعطم عمران خان نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کے قیمتی وسائل کو محفوظ بنانے کی اہمیت اس لحاظ سے دوچند ہو گئی ہے کیونکہ وہ کورونا وبا کی وجہ سے شدید متاثر ہوئے ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ انہوں نے جو اقدامات تجویز کئے ہیں، ان پر عمل نہ کرنے سے امیر اور غریب کے مابین فرق بڑھتا جائے گا اور یہ خلیج بڑھتی رہی تو ترقی پذیر ممالک مزید مالی مشکلات کا شکار ہو جائیں گے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here