فین سین فائلز: چھ پاکستانی بینک بھی مبینہ منی لانڈرنگ کے مرتکب

الائیڈ بینک، یونائیٹڈ بینک، حبیب میٹرو، بینک الفلاح، ایچ بی ایل، سٹینڈرڈ چارٹرڈ نے 2.5 ملین ڈالرز کی 29 مشکوک ٹرانزیکشنز کی اجازت دی، فین سین لیکس میں انکشاف

733

لاہور: مالیاتی جرائم کی تحقیقات کرنے والے امریکی ادارے فن سین (FinCEN Files) سے لیک ہونے والی دستاویزات سے علم ہوا ہے کہ کچھ بڑے عالمی بینکوں نے علم ہونے باوجود کچھ مشکوک صارفین کو رقوم کی منتقلی (منی لانڈرنگ) کی اجازت دی۔

فن سین فائلز میں چھ پاکستانی بینکوں کا نام بھی آ رہا ہے جو مبینہ طور پر اس عمل میں شامل رہے اور انہوں نے 2.5 ملین ڈالرز کی 29 مشکوک ٹرانزیکشنز کی اجازت دی۔

دستاویزات کے مطابق جن پاکستانی بینکوں سے رقوم کی مشکوک منتقلی کی گئی ان میں الائیڈ بینک (اے بی ایل)، یونائیٹڈ بینک (یو بی ایل)، حبیب میٹرو پولیٹن بینک، بینک الفلاح، حبیب بینک (ایچ بی ایل) اور سٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک شامل ہین۔

فن سین فائلز 2657 لیک شدہ دستاویزات ہیں جن میں 2100 دستاویزات مشتبہ سرگرمیوں کے بارے میں رپورٹس (ایس اے آر) ہیں، بینک یہ رپورٹس حکام کو اس وقت بھیجتے ہیں جب انہیں یہ شک ہوتا ہے کہ ان کے صارف کچھ غلط کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: مشکوک لین دین روکنے میں ناکامی، بڑے عالمی بینکوں کے منی لانڈرنگ کا مرتکب ہونے کا انکشاف

قانون کے تحت بینکوں کے علم میں ہونا چاہیے کہ ان کے کلائنٹس کون ہیں، صرف ایس اے آر فائل کرتے رہنا اور کلائنٹس سے جرائم کا پیسہ لیتے رہنا کافی نہیں ہے کیونکہ اس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں سے یہ امید باندھ لی جاتی ہے کہ وہ مسئلے سے خود ہی نمٹ لیں گے، اگر بینکوں کے پاس مجرمانہ سرگرمی کا ثبوت ہو تو انہیں رقم کی منتقلی کو روکنا ہوتا ہے۔

لیک دستاویزات سے علم ہوتا ہے کہ کیسے دنیا کے سب سے بڑے بینکوں کے ذریعے کالا دھن سفید کیا گیا اور کیسے مجرموں نے گمنام برطانوی کمپنیوں کا استعمال کرتے ہوئے اپنا پیسہ چھپایا۔

یہ ایس اے آر دستاویزات میڈیا ادارے بزفیڈ کی ویب سائٹ کو لیک کی گئیں اور ان کا تبادلہ تحقیقاتی صحافیوں کی بین الاقوامی تنظیم انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹی گیٹیو جرنلسٹس (آئی سی آئی جے) کے ساتھ کیا گیا۔

لیک ہونے والی یہ رپورٹس سنہ 2000ء سے 2017ء کے درمیان امریکہ کے فنانشل کرائمز انویسٹی گیشن نیٹ ورک یا فن سین کو جمع کروائی گئی تھیں اور ان میں تقریباً 20 کھرب ڈالر کے لین دین کا احاطہ کیا گیا ہے۔

دستاویزات کے مطابق پاکستانی بینکوں سے 29 مشکوک ٹرانزیکشنز کی گئیں جس دوران پاکستانی بینکوں کو 19 لاکھ 42 ہزار 560 ڈالر موصول ہوئے جبکہ چار لاکھ 52 ہزار ڈالر پاکستانی بینکوں کے ذریعے دیگر بینکوں کو منتقل کیے گئے۔

الائیڈ بینک کو 12 مشکوک ٹرانزیکشنز کے ذریعے 10 لاکھ ڈالر سے زائد رقم موصول ہوئی، یو بی ایل کو 8 مشکوک ٹرانزیکشنز کے ذریعے 3 لاکھ 99 ہزار 620 ڈالر موصول ہوئے، حبیب میٹرو کو دو مشکوک ٹرانزیکشنز کے ذریعے 74 ہزار 480 ڈالر موصول ہوئے۔

اسی طرح بینک الفلاح کو تین ٹرانزیکشنز کے ذریعے 99 ہزار 480 ڈالر موصول ہوئے جبکہ بینک الفلاح سے 4 لاکھ 52 ہزار ڈالر منتقل بھی ہوئے۔ سٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک کو ایک لاکھ 99 ہزار 860 ڈالر کی چار ٹرانزیکشنز موصول ہوئیں جبکہ حبیب بینک کو ایک ٹرانزیکشن کے ذریعے ایک لاکھ 67 ہزار 450 ڈالر موصول ہوئے۔

پاکستانی بینکوں کی 29 ٹرانزیکشنز میں سے صرف سٹینڈرڈ چارٹرڈ نے 28 ایس اے آرز فن سین کو بھیجے جبکہ ایک ایس اے آر بینک آف نیویارک میلن کارپوریشن کی جانب سے بھیجا گیا۔ یہ تمام ٹرانزیکشنز ستمبر تا دسمبر 2012ء کے درمیان ہوئیں جبکہ ایک نومبر 2011ء میں ہوئی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here