11 سال بعد پنکھوں کی صنعت کے حوالے سے ڈیوٹی ڈرا بیک کی شرح پر نظرثانی

2009ء سے پنکھوں کی برآمدی صنعت جمود کا شکار تھی، ڈیوٹی ڈرا بیک کی شرح 1.72 فیصد سے بڑھا کر 4.396 فیصد کر دی، ترجمان ایف بی آر

70

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے پنکھوں کی صنعت کا 11 سال پرانا مطالبہ پورا کرتے ہوئے ڈیوٹی ڈرا بیک کی شرح 1.72 فیصد سے بڑھا کر 4.396 فیصد کر دی ہے، اس ضمن میں ایس آر او کا اجراء کر دیا گیا ہے۔

ایف بی آر کے ترجمان نے منگل کو بتایا کہ بر آمدات اور تجارت کے فروغ کے لئے وزیراعظم کے وژن اور ہدایات کی روشنی میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (کسٹمز ونگ) نے پنکھوں کی صنعت کا دیرینہ مطالبہ پورا کرتے ہوئے ایس آر او نوٹیفکیشن 859(I)/2020  جاری کر دیا ہے جس کے مطابق ڈیوٹی ڈرا بیک کی شرح 1.72 فیصد سے بڑھا کر 4.396 فیصد کر دی گئی ہے۔

ترجمان ایف بی آر کے مطابق پنکھوں کی صنعت کے لئے ٹیکس نظام پر 2009 ء سے کوئی نظرثانی نہیں کی گئی تھی جس کے باعث پنکھوں کی برآمدی صنعت جمود کا شکار تھی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کسٹمز (ایف بی آر) نے وزیراعظم کے وژن “میک اِن پاکستان” کو عملی شکل دینے کا تہیہ کر رکھا ہے اور اس سلسلے میں برآمدات کے فروغ اور تجارت میں سہولت کے لئے متعدد اقدامات کئے جا رہے ہیں جن کی بدولت برآمدات میں نمایاں اضافہ ہو گا اور کارخانہ داروں کو مالی مسائل سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔

ایف بی آر کے ان اقدامات کی بدولت نہ صرف صنعتی اداروں کی کاروباری لاگت میں کمی آئے گی بلکہ خطے کے دیگر برآمد کنندگان کے مقابلے میں ان کی مسابقتی حیثیت مضبوط ہو گی۔

ترجمان نے کہا کہ دیگر کئی برآمدی شعبوں کے لئے بھی اس طرح کے متعدد اقدامات پر کام جاری ہے جن کا اعلان بہت جلد کر دیا جائے گا۔ ایف بی آر کے ان اقدامات کی بدولت ادویہ سازی، لیدر گارمنٹس، آلات جراحی، پولٹری، فٹ ویئر سمیت کئی دیگر اہم شعبوں میں برآمدات کو بھرپور فروغ ملے گا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here