799 آسامیوں پر غیر قانونی بھرتیاں، وفاقی کابینہ کا تعیناتیاں منظور کرنے سے انکار

مختلف وزارتوں اور محکموں میں خالی آسامیوں پر 799 افراد کو بھرتی کیا گیا مگر اس کام کے لیے حکومت کی اجازت نہیں لی گئی، معاملے کی انکوائری کرنے والی کمیٹی نے ذمہ داران کو بچانے کے لیے کابینہ سے تعیناتیوں کو منظور کرنے کی سفارش کی تھی جو رد کردی گئی۔

100

اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے مختلف  وزارتوں اور محکموں میں 799 افراد کی غیر قانونی بھرتیوں کی منظوری دینے سے انکار کردیا۔

ان میں سے پانچ سو افراد ائیرپورٹ سیکیورٹی فورس اور سول ایوی ایشن ڈویژن میں جبکہ بقیہ 299 افراد مختلف وزارتوں اور محکموں میں تعینا ت کیے گئے تھے مگر حکومت سے اس چیز کی اجازت نہیں لی گئی تھی۔

ان بلا اجازت تعیناتیوں پر وزیراعظم عمران خان نے سخت نوٹس لیا تھا جس کے بعد وزارتوں اور ڈویژنز کواس حوالے سے سیکرٹریز کی سائن شدہ رپورٹس جمع کروانے کی ہدایت کی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیے:

سندھ، بلوچستان کیلئے نوکریوں کا کتنا کوٹہ ہے؟ وزارت خزانہ سے تفصیلات طلب

عاصم سلیم باجوہ نے تھر بلاک-1 منصوبے کے لیے 1100 سے زائد نوکریوں کا اعلان کر دیا

مزید برآں سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن ڈاکٹر اعجاز منیر کی سربراہی میں ایک تین رکنی کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی جس کا مقصد حکومت کی اجازت کے بغیر کی جانے والی ان تعیناتیوں کی چھان بین کرنا اور حتمی فہرست تیار کرنا تھا۔

اس کمیٹی نے ان تعیناتیوں کے ذمہ داران کو بچانے کے لیے وفاقی کابینہ کو پیش کی جانے والی اپنی رپورٹ میں ان کی منظوری دینے کی سفارش کی تھی۔

مگر وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے ان تعیناتیوں کی منظوری دینے کی مخالفت کردی۔ انکا کہنا تھا کہ یہ اقدام سپریم کورٹ کے مصطفی ایمکس کیس میں دیے گئے حکم کی خلاف ورزی ہے۔

انکا کہنا تھا کہ ان اسامیوں کو دوبارہ اشتہار جاری کرکے بھرنا چاہیے۔

یوں وزیر قانون کی جانب سے مخالفت کی وجہ سے وفاقی کابینہ نے ان تعیناتیوں کی منظوری نہیں دی تاہم معاملے کو وزیراعظم کے مشیر برائے ادارہ جاتی اصلاحات اور کفایت شعاری ڈاکٹر عشرت حسین کو بھجوانے کی ہدایت ضرور کی تاکہ کوئی قانونی حل نکالا جاسکے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here