شنگھائی تعاون تنظیم: غربت کے خاتمہ کیلئے سنٹر آف ایکسی لینس کے قیام کی پاکستانی تجویز پر جوائنٹ ورکنگ گروپ قائم

بھارت کے علاوہ بی آر آئی اور سی پیک کے حوالے سے تمام رکن ممالک متفق، سات وزرائے خارجہ کا جھکاﺅ ایک طرف اور بھارت کا اپنا نقطہ نظر تھا، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا ماسکو میں ایس سی او کی وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس کے بعد ویڈیو پیغام

173
APP62-10 MOSCOW: September 10 - Foreign Minister Makhdoom Shah Mahmood Qureshi while addressing SCO Foreign Ministers’ Meeting. APP

ماسکو:  وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ غربت کے خاتمہ کیلئے اسلام آباد میں سنٹر آف ایکسی لینس قائم کرنے سے متعلق پاکستان کی تجویز پر شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے تمام رکن ممالک نے جوائنٹ ورکنگ گروپ قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی) اور سی پیک کے حوالے سے تمام رکن ممالک متفق تھے ما سوائے بھارت کے۔ سات وزرائے خارجہ کا جھکاﺅ ایک طرف اور بھارت کا اپنا نقطہ نظر تھا، تاہم سات رکن ممالک کے وزرائے خارجہ نے اس کا نوٹس لیا۔

جمعرات کو ماسکو میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کی وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس کے بعد اپنے ایک ویڈیو پیغام میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان نے غربت کے خاتمہ کیلئے اسلام آباد میں سنٹر آف ایکسلنس قائم کرنے کی تجویز پیش کی، اس پر تمام آٹھ رکن ممالک کے وزرائے خارجہ نے جوائنٹ ورکنگ گروپ قائم کرنے پراتفاق کیا ہے جو اچھی پیشرفت ہے۔

تمام رکن ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ کووڈ 19 کا چیلنج ابھی موجود ہے اور اس پر قابو پانے کیلئے رکن ملکوں کے مابین تعاون جاری رکھنا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ سب نے چین کا شکریہ ادا کیا جس نے ٹیکٹیکل اورمالی تعاون فراہم کیا اور نئی ویکسین کی تیاری میں پیشرفت حاصل کرنے پر روس کو مبارکباد بھی پیش کی۔

انہوں نے کہا کہ یہ ویکسن نہ صرف تیار بلکہ رجسٹرڈ بھی ہو چکی ہے۔ اس سے وباء پر قابو پانے میں آسانی ہو گی۔ رکن ممالک کا خیال یہ تھا کہ اس ویکسین کو عوامی مفاد کیلئے استعمال کیا جائے اور اس کے کمرشل استعمال سے اجتناب کیا جائے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ اجلاس میں اقوام متحدہ کے کردار پر تبادلہ خیال ہوا اور سب نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اقوام متحدہ کا کردار مرکزی ہونا چاہیئے۔ اگر دنیا اور خطے میں امن و استحکام کی ضرورت ہے، تو پھر یو این کے قراردادوں کی اہمیت اور ان کا احترام بھی ہم پر لازم و ملزوم ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بی آر آئی پر رکن ممالک کا نقطہ نظر یہ تھا کہ اس سے خطے میں روابط کو فروغ ملے گا اور سب اس سے مستفید ہوں گے۔ بی آر آئی اور سی پیک کے منصوبوں پر تمام رکن ممالک متفق تھے ما سوائے بھارت کے۔

ان کا کہنا تھا کہ سات وزرائے خارجہ کا جھکاﺅ ایک طرف تھا اور بھارت کا الگ۔ بہرحال سب نے اس کا نوٹس لیا، دنیا نے اور سب وزرائے خارجہ نے دیکھا کہ جو مشترکہ اعلامیہ پر سات وزرائے خارجہ ایک طرف تھے اور بھارت کو چین کی ایک پیرا پر اعتراض تھا، اس پر ماہرین کی سطح پر اتفاق نہیں ہو سکا تاہم بعد ازاں اسے وزرائے خارجہ کے فورم پر لایا گیا، خاصی بحث کے بعد چین کا نقطہ نظر، جس کی پاکستان حمایت کرتا ہے، اسے تسلیم کیا گیا اور بشکیک میں جو زبان استعمال کی گئی تھی، اس پر اتفاق ہو گیا اور نہ چاہتے ہوئے بھی بھارت بالاخر مان گیا۔

بعد ازاں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کرغزستان کے اپنے ہم منصب چنگیز ایڈربیکوف سے ملاقات کی، دونوں وزرائے خارجہ نے باہمی دلچسپی کے کثیر الجہتی شعبوں میں دو طرفہ تعاون کو وسعت دینے پر اتفاق کیا۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان اور کرغزستان کے مابین گہرے تاریخی روابط ہیں، وزیر خارجہ نے پاکستان کی ایس سی او ممبرشپ کیلئے کرغزستان کے متحرک کردار کو سراہتے ہوئے کرغزستان کے وزیر خارجہ کا شکریہ ادا کیا۔

دونوں وزرائے خارجہ نے دو طرفہ تعلقات کو فروغ دینے اور سیاسی، اقتصادی اور عوامی سطح پر روابط کو بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ ملاقات کے دوران پاکستان اور کرغزستان کے مابین زمینی اور ہوائی روابط کو مزید بڑھانے پر بھی غور کیا گیا۔

وزیر خارجہ نے کرغزستان میں مقیم پاکستانی برادری بالخصوص زیر تعلیم طلباء کا خصوصی خیال رکھنے پر اپنے کرغزستانی ہم. منصب کا شکریہ ادا کیا۔

وزیر خارجہ نے کورونا عالمی وبائی چیلنج سے نمٹنے کے لئے پاکستان کی طرف سے اٹھائے گئے ان موثر اقدامات سے بھی آگاہ کیا جن کے باعث وائرس کے پھیلائو میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی۔ دونوں وزرائے خارجہ کے مابین علاقائی امن و استحکام اور افغان امن عمل پر بھی گفتگو ہوئی۔

وزیر خارجہ نے بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور بھارتی یکطرفہ اقدامات کے باعث خطے کے امن کو درپیش خطرات سے کرغزستان کے وزیر خارجہ کو آگاہ کیا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here