لاک ڈائون کے دوران پاکستانیوں نے کتنا انٹرنیٹ ڈیٹا استعمال کیا؟ اعدادوشمار جاری

72

اسلام آباد: کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے دیگر اثرات سے قطع نظر لاک ڈاؤن اور گھر سے کام کرنے کے اقدامات نے ملک میں سیلولر سروسز کے استعمال اور صارفین کے رویے کو تبدیل کر دیا ہے۔

ایڈوٹکو پاکستان کے مینیجنگ ڈائریکٹر عارف حسین نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ لاک ڈائون کے دوران سیلولر ڈیٹا کے استعمال میں 25 فیصد اضافہ جبکہ وائس ٹریفک سے ہونے والی آمدن میں 10 فیصد کے قریب کمی ہوئی، وباء نے لوگوں کی ڈیٹا اور انٹرنیٹ پر اعتماد اور ضرورت کو مزید واضح کر دیا ہے۔

عارف حسین کے مطابق ٹیلی کام سیکٹر کے لیے 2020ء سیکھنے کا سال ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ نیٹ ورک ایریاز میں نئے مواقع فراہم کرنے کے لیے بہتر سروسز کی ضرورت ہے۔

ملٹی نیشنل کمپنی ایڈوٹکو مواصلاتی انفراسٹرکچر کی خدمات فراہم کرتی ہے، یہ تھرڈ پارٹی کے طور پر ٹیلی کام کی شئیرنگ اور انفراسٹرکچر کی بہتری کیلئے ملک کے چار ٹیلی کام آپریٹرز کےساتھ کام کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

جاز کے موبائل اکائونٹ صارفین کی تعداد میں 41 فیصد اضافہ

حلال فوڈ انڈسٹری کی ترقی کیلئے جدید ٹیکنالوجی کو فروغ دیا جائے گا، فواد چوہدری

عارف حسین نے کہا کہ انٹرنیٹ سروسز اور ٹیلی فونک سروسز کی سہولتوں سے محروم علاقوں کو مستقبل میں سہولیات دی جائیں گی، جن کی تعداد 25 فیصد آبادی یعنی 50 ملین ہے جو بنیادی ٹیلی فونک سروسز سے بھی محروم ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں انٹرنیٹ اور ٹیلی کام سروسز کی رسائی کو واضح طور پر بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ براڈبینڈ سروسز کا استعمال صرف انٹرٹینمنٹ پروگرامز یا کارپوریٹ کاموں کے لیے ہی نہیں کیا جاتا بلکہ کورونا وائرس کے بعد سیلولر کمپنیوں نے محسوس کیا کہ مذکورہ ڈیٹا کی ضرورت ناگزیر ہے، یہ سہولت دُوردراز کے علاقوں میں بھی دستیاب ہونی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملازمین اپنی مہارت کو بہتر کرنے کے لیے کئی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو دیکھتے ہیں، اور بہت سی خواتین نے ان پلیٹ فارمز کو استعمال کرتے ہوئے اپنے چھوٹی سطح کے کاروبار بھی شروع کیے ہیں۔

“انٹرنیٹ کے ذریعے پیسے کمانے والے لوگوں میں پلمبر بھی شامل ہیں، وہ ڈیٹا کے لیے پیسے ادا کرنے کے لیے تیار ہوتے ہیں۔”

عارف حسین کے مطابق ابھی تک صرف دو کمپنیاں ہی سمندری راستے سے انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کر رہی ہیں لیکن ایک یا دو کمپنیوں کے جلد اس فیلڈ میں داخل ہونے کی توقع ہے جس سے انٹرنیٹ ڈیٹا کی قیمتوں میں مزید مسابقت پیدا ہو گی اور صارفین کا فائدہ ہوگا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here