گردشی قرضے میں اضافہ، درآمدی گیس موجودہ قیمت پر فراہم نہیں کر سکتے، وزیر اعظم 

پچھلے 30 سال میں توانائی کی ضروریات پوری کرنے کےلئے کوئی منصوبہ بندی نہیں ہوئی، سبسڈیز وہ لوگ لے رہے ہیں جو پہلے ہی طاقتور ہیں: سیمینار سے خطاب

128

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بجلی کے شعبے کی طرح گیس کے شعبے کا گردشی قرضہ بھی بڑھ رہا ہے، درآمدی گیس موجودہ قیمت پر فراہم کرنے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔

بدھ کو پٹرولیم ڈویژن کے زیر اہتمام ”پاکستان میں گیس کی ارزاں فراہمی، استحکام اور سکیورٹی“ کے موضوع پر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ سبسڈیز دینے کا مقصد غریب عوام کےلئے آسانیاں پیدا کرنا ہوتا ہے تاکہ ان کو سستی سہولت دستیاب ہو، دوسرے ان علاقوں کےلئے سبسڈی دی جاتی ہے جو ترقی میں پیچھے رہ گئے ہیں تاکہ فی کس آمدنی اورجی ڈی پی کی شرح میں اضافہ ہو اور ہم قرضے واپس کریں۔

انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سبسڈیز سے وہ لوگ استفادہ کر رہے ہیں جو پہلے ہی طاقتور ہیں۔ اس سیمینار کی ضرورت اس وجہ سے پیش آئی کہ ہم نے ماضی میں اس طرح کی بحث ہی نہیں کہ ہمیں توانائی کی ضروریات پوری کرنے کےلئے کیا کرنا چاہئے، پہلے فیصلے ہو جاتے تو آج مشکل صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔

وزیراعظم نے کہا کہ ایل پی جی غریب لوگ استعمال کرتے ہیں لیکن اس کی پیداواری لاگت زیادہ ہے، ملک میں 27 فیصد لوگوں کو پائپ لائنوں سے گیس ملتی ہے۔

عمران خان نے کہا کہ آج ہماری انڈسٹری کو مشکل حالات کا سامنا ہے، سردیوں میں ہمیں گیس کے بڑے بحران کا سامنا ہوتا ہے، سبسڈی دینے کا مقصد غریب عوام کےلئے آسانیاں پیدا کرنا ہوتا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہم آئی پی پیز کے شکر گزار ہیں جنہوں نے پرانے معاہدوں پر نظر ثانی کرکے نئے معاہدے کئے ہیں، آئندہ ہفتے اس سلسلے میں ہم تفصیلات سے آگاہ کریں گے کہ اس سے کتنی بچت ہوئی ہے اور کتنا فائدہ ہوگا۔

وزیراعظم نے کہا کہ اس سیمینار کا مقصد یہ ہے کہ ملک میں پیدا ہونے والی گیس کے ذخائر کم ہو رہے ہیں اس صورتحال سے کیسے نمٹیں، گیس کی قلت کی وجہ سے سردیوں میں بحران پیدا ہوتا ہے، درآمدی گیس اورملک کے اندر پیدا ہونے والی گیس کی قیمت میں بڑا فرق ہے، اس سیمینار کے دوران ہمیں ملکی مفاد کو اولین ترجیح دیتے ہوئے صورتحال کا ادراک کرنا ہو گا اور تجاویز پیش کرنا ہوںگی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں پن بجلی کی پیداوار کی بڑی صلاحیت موجود ہے لیکن ماضی میں اس سے فائدہ اٹھانے کا کسی نے نہیں سوچا، بدقسمتی سے یہاں الیکشن کو سامنے رکھ کر منصوبہ بندی کی جاتی رہی ہے، پچھلے 30 سال میں اس سلسلے میں حکومتوں نے کچھ نہیں کیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ گیس کی طلب اور رسد میں بہت زیادہ فرق ہے جس کی وجہ سے آئندہ سردیوں میں بڑا مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے، درآمدی گیس موجودہ قیمت پر فراہم کرنے کے متحمل نہیں ہوسکتے۔

انہوں نے کہا کہ ہم ملک میں 17 روپے فی یونٹ بجلی پیدا کرکے 14 روپے فی یونٹ فروخت کر رہے ہیں جس کی وجہ سے گردشی قرضہ بڑھ رہا ہے ، یہی حالت گیس کے شعبہ کی بھی ہے اور اس میں بھی گردشی قرضے میں اضافہ ہو رہا ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا سیمینار میں خیبرپختونخوا اور سندھ کے نمائندوں نے اپنا اپنا موقف پیش کیا لیکن  ہمیں قومی مفاد کو ترجیح دینی ہے، وفاق اتنا ہی پیسہ صوبوں کو بھیج سکتا ہے جتنا ٹیکس جمع ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایگزون کی ڈرلنگ سے بڑی توقع تھی لیکن وہاں سے گیس کے ذخائر دریافت نہیں ہوئے، توقع کرتا ہوں کہ سیمینارمیں اتفاق رائے سے آئندہ کا لائحہ عمل تیارکرنے میں مدد ملے گی، پنجاب میں گیس کی پیداوار کم ہے اس لئے اسے گیس کے مسئلے کا سامنا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ توانائی سے متعلق ماضی میں کبھی بحث و مباحثہ نہیں ہوا، توانائی کے مسائل کو سامنے رکھ کر بحث و مباحثہ کرنا ہو گا، یہ مباحثہ توانائی کے مسائل کے حل کےلئے روڈ میپ فراہم کرے گا، خواہش ہے کہ ملکی مسائل پر بحث ومباحثہ ہونا چاہئے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here