ترسیلات زر، ایف ڈی آئی میں اضافہ، کرنٹ اکائونٹ سر پلس، بیشتر اقتصادی اشاریے بہتری کی عکاسی کر رہے ہیں، وزارت خزانہ

230

اسلام آباد: وزارت خزانہ نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے اقتصادی استحکام کیلئے اٹھائے جانے والے اقدامات کے نتیجہ میں جاری مالی سال کے پہلے مہینے میں بیشتر اقتصادی اشاریے بہتری کی عکاسی کر رہے ہیں۔

وزارت خزانہ کی طرف سے تازہ ترین اقتصادی صورتحال بارے جاری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جولائی 2020ء میں ترسیلات زر میں 36.5 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ  جولائی 2019ء میں سمندر پار مقیم  پاکستانیوں نے دو ارب ڈالر کا زر مبادلہ ملک ارسال کیا تھا۔ جولائی 2020ء میں ترسیلات زر کا حجم 2.8 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے: جولائی میں ترسیلات زر بلند ترین ماہانہ سطح پر پہنچ گئیں، 2.76 ارب ڈالر موصول

جولائی میں ملک میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری کی شرح میں 60.8 فیصد کا نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ جولائی 2019ء میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری کا حجم 71.1 ملین ڈالر تھا جبکہ جولائی 2020ء میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کا حجم 114.3 ملین ڈالر رہا۔

مجموعی غیرملکی سرمایہ کاری کی شرح میں 2.2 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔ جولائی 2019ء میں پاکستان میں مجموعی غیر ملکی سرمایہ کاری کا حجم 105 ملین ڈالر ریکارڈ کیا گیا تھا، جولائی 2020ء میں مجموعی غیر ملکی سرمایہ کاری کا حجم  107.2 ملین ڈالر رہا۔

جولائی 2020ء میں نجی پورٹ فولیو سرمایہ کاری میں کمی جبکہ سرکاری پورٹ فولیو سرمایہ کاری میں اضافہ کا رحجان رہا، جولائی 2020ء میں نجی پورٹ فولیوسرمایہ کاری کا حجم منفی 73.2 ملین ڈالر رہا، گزشتہ سال جولائی میں نجی پورٹ فولیو سرمایہ کاری کا حجم  33 ملین ڈالر تھا۔

یہ بھی پڑھیے: پاکستان جی ڈی پی کے 7.90 فیصد کے مساوی ترسیلات زر موصول کرنے والا جنوبی ایشیاء کا دوسرا بڑا ملک بن گیا

سرکاری پورٹ فولیو سرمایہ کاری میں جولائی کے دوران عمومی اضافہ کا رحجان رہا، جولائی 2020ء میں سرکاری پورٹ فولیو سرمایہ کاری کا حجم  66.1 ملین  ڈالر ریکارڈ کیا گیا، اسی طرح تجارتی خسارہ میں جولائی کے دوران 11.8 فیصد کی نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔

جولائی 2019ء میں تجارتی خسارہ میں کمی کا حجم 2 ارب ڈالر رہا تھا، جولائی 2020ء میں پاکستان کے تجارتی خسارہ میں 1.7 ارب ڈالرکی کمی آئی۔

وزارت خزانہ کے مطابق جولائی 2020ء میں ملکی برآمدات اور درآمدات دونوں میں کمی کا رحجان رہا، جولائی 2020ء میں پاکستانی برآمدات میں 14.6 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ ملکی برآمدات کا حجم 1.9 ارب ڈالر رہا۔ گزشتہ سال جولائی میں ملکی برآمدات کا حجم 2.2 ارب ڈالر تھا۔ تاہم اس دوران درآمدات میں 13.3 فیصد کی نمایاں کمی بھی ریکارڈ کی گئی۔

جولائی 2020ء میں درآمدات کا حجم 3.6 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا، گزشتہ سال جولائی میں ملکی درآمدات کا حجم 4.2 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا، ایک ماہ میں ملک کے تجارتی خسارہ میں کمی کا تناسب 11.8 فیصد رہا۔

جولائی 2020ء میں حسابات جاریہ کے خسارہ میں 0.4 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا، گزشتہ سال جولائی میں حسابات جاریہ کے خسارہ میں منفی 0.6 ارب ڈالر کی کمی ہوئی۔

وزارت خزانہ کے مطابق سالانہ بنیادوں پر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے، گزشتہ سال 20 اگست ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 15.58 ارب ڈالر تھے، 20 اگست 2020ء کو ملکی زر مبادلہ کے ذخائر کا حجم 19.69 ارب ڈالر تھا۔ وزارت خزانہ کے اعدادوشمار کے مطابق ایک سال میں ایکسچینج ریٹ میں تقریباً 10 روپے کا اضافہ ہوا ہے، گزشتہ سال 20 اگست کو ڈالرکے مقابلے میں پاکستانی کرنسی کی قیمت 158.50 روپے تھی، رواں سال 20 اگست کو ڈالرکی شرح مبادلہ 168.31 روپے رہی۔

اعدادوشمار کے مطابق مالی سال کے پہلے مہینہ میں ایف بی آر کی جانب سے ٹیکس وصولیوں میں مجموعی طور پر4.7 فیصد اضافہ ہوا۔ جولائی 2020ء میں ایف بی آر کے محاصل کا حجم 290.5 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا، گزشتہ سال جولائی میں ایف بی آر کے مجموعی محاصل کا حجم 277.3 ارب ڈالر رہا تھا۔

گزشتہ مالی سال میں نان ٹیکس ریونیومیں مجموعی طور پر 256.8 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا، مالی سال 2020ء میں نان ٹیکس ریونیو کا حجم 1524.4 ارب روپے رہا، پیوستہ مالی سال میں نان ٹیکس ریونیو کا مجموعی حجم 427.3 ارب روپے رہا۔

اسی طرح شرح سود میں گزشتہ ایک سال کے دوران نمایاں کمی گئی ، 17 جولائی 2019ء کو پالیسی ریٹ 13.25 فیصد تھا، 25 جون 2020ء سے پالیسی ریٹ 7 فیصد ہے۔

یکم جولائی 2019ء سے لیکر17 اگست 2019ء تک حکومت نے سٹیٹ بینک سے 529.7 ارب روپے کا قرضہ حاصل کیا تھا تاہم حکومت نے اس حوالہ سے اپنی حکمت عملی تبدیل کی اور سٹیٹ بینک سے قرضہ حاصل نہ کرنے کا فیصلہ کیا، رواں سال یکم جولائی سے لیکر 14 اگست تک حکومت نے سٹیٹ بینک کو 460.1 ارب روپے کا قرضہ واپس کیا۔

سالانہ بنیادوں پر پاکستان سٹاک ایکسچینج میں مجموعی طور پر 14.27 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، یکم جولائی 2019ء کو پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کے ایس ای 100 انڈکس 34889 پوائنٹ پر تھا، 20 اگست 2020ء کو سٹاک ایکسچینج کا انڈکس 39869 پوائنٹس ریکارڈ کیا گیا۔

اسی طرح ملک میں نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا۔ گزشتہ جولائی میں 1531 کمپنیوں کی رجسٹریشن ہوئی تھی، رواں سال جولائی میں کل 1933 کمپنیوں کی رجسٹریشن کی گئی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here