سپریم کورٹ، گیس سیس کیس کا فیصلہ سنا دیا ، کمپنیوں کو417 ارب روپے ادائیگی کا حکم

کمپنیوں کی اپیلیں مسترد، سیاسی وجوہات پر پاک ایران اور تاپی منصوبوں پر کام نہ ہوا تو جی آئی ڈی سی ایکٹ غیر فعال تصور ہو گا، عدالت عظمیٰ، مشیر خزانے نے فیصلہ خوش آئندہ قرار دے دیا

66

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے گیس انفراسٹرکچر سیس (جی آئی ڈی سی ) کیس کا محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیا، عدالت عظمیٰ نے گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس وصولی کے خلاف کمپنیوں کی جانب سے دائر اپیلیں مسترد کرتے ہوئے گیس کمپنیوں کو جی آئی ڈی سی کی رقم حکومت کو ادا کرنے کا حکم دیا، یوں حکومت کو 417 ارب روپے کے ٹیکسز وصول ہوں گے۔

سپریم کورٹ نے گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس کیس کا جسٹس فیصل عرب کا تحریر کردہ 78 صفحات پر مشتمل محفوظ شدہ فیصلہ جسٹس مشیرعالم کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے پڑھ کر سنایا۔

عدالت عظمی نے گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس کی وصولی روکنے کیلئے 107 کمپنیوں کی جانب سے دائر تمام اپیلیں مسترد کر دی ہیں۔

جسٹس فیصل عرب نے 47 صفحات پر مشتمل اکثریتی فیصلہ تحریر کیا جبکہ جسٹس منصورعلی شاہ نے 31 صفحات پر مشتمل اختلافی نوٹ لکھا۔

عدالت عظمیٰ کے اکثریتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جی آئی ڈی سی ایکٹ 2015ء کا مقصد گیس کی درآمد کیلئے سہولت دینا تھا، جی آئی ڈی سی کے تحت نافذ کی گئی لیوی آئین کے مطابق ہے۔

فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ سال 2020-21ء کیلئے گیس قیمت کا تعین کرتے وقت اوگرا سیس کو مدنظر نہیں رکھ سکتا، تمام کمپنیوں سے 31 اگست 2020ء تک کی واجب الادا رقم 24 اقساط میں وصول کی جائے۔

سپریم کورٹ نے حکومت کو شمال جنوبی پائپ لائن منصوبہ پر کام چھ ماہ میں شروع کرنے کا حکم دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ تاپی منصوبہ بھی پاکستانی سرحد تک پہنچتے ہی اس پر فوری کام شروع کیا جائے۔

عدالت عظمیٰ نے قرار دیا کہ سیاسی وجوہات پر پاک ایران اور تاپی منصوبوں پر کام نہ ہوا تو جی آئی ڈی سی ایکٹ غیر فعال تصور ہو گا۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ رواں ماہ تک قابل وصول رقم 700 ارب تک پہنچ جائے گی جبکہ اب تک سیس کی مد میں 295 ارب روپے وصول کیے جا چکے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے اختلافی نوٹ میں کہا ہے کہ صنعت، ٹرانسپورٹ، ٹیکنالوجی، زراعت اور انفراسٹرکچر کے لئے توانائی انتہائی ضروری ہے، ہر وہ قوم جس کی معیشت بہتر ہو رہی ہو وہاں توانائی کی فراہمی بہت ضروری ہے، ملک میں ابھی بھی قدرتی گیس کی قلت ہے، قدرتی گیس کی قلت اور طلب کے درمیان خلا کو پر کرنے کی ضرورت ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے لکھا کہ پاکستان اکنامک سروے کی حالیہ رپورٹ کے مطابق مقامی قدرتی گیس مجموعی توانائی سپلائی کا 38 فیصد ہے، پاکستان چار ارب کیوبک فٹ یومیہ گیس پیدا کر رہا ہے جبکہ پاکستان کی ضرورت چھ ارب کیوبک فٹ یومیہ ہے۔

سپریم کورٹ نے جی آئی ڈی سی سیس پر حکومتی موقف تسلیم کرتے ہوئے کمپنیوں کی جانب سے دائر اپیلیں خارج کردی ہیں۔

عدالت عظمیٰ نے حکومت کو کمپنیوں سے گیس انفراسٹرکچر سیس کی 417 ارب روپے کی رقم وصول کرنے کی اجازت دیدی ہے۔

سپریم کورٹ نے رواں سال 20 فروری کو جی آئی ڈی سی کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

واضح رہے کہ اس سے پہلے معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہونے کے باعث وفاقی حکومت نے کمپنیوں کو آ دھی رقم 220 ارب معاف کرتے ہوئے بقیہ رقم ادا کرنے کا کہا تھا تاہم بعد میں پیسہ معاف کرنے کا نوٹیفکیشن واپس لیتے ہوئے حکومت نے عدالت عظمیٰ سے استدعا کی تھی کہ جی آئی ڈی سی سیس کیس کو جلد سن کر فیصلہ کیا جائے۔

ادھر وزیر اعظم کے مشیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ نے گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس (جی آئی ڈی سی) کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here