طویل انتظار کے بعد بالآخر بی آر ٹی پشاور چل پڑی

64

پشاور: وزیراعظم عمران خان نے جمعرات کے روز طویل انتظار کے بعد بالآخر پشاور بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) منصوبے کا افتتاح کر دیا۔

افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ منصوبہ پشاور کی سٹرکوں پر ٹریفک جام اور دباؤ کو کم کرنے میں مدد کرے گا، ٹریفک جام کی وجہ سے پیٹرول کے اخراجات اور آلودگی میں بھی کم ہو گی۔

عمران خان نے دعویٰ کیا کہ پشاور میٹرو بس منصوبہ ملک میں سب سے زیادہ بہتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ٹی منصوبہ 27 کلومیٹر طویل ہونے کے ساتھ 60 کلومیٹر فیڈر روٹس پر مشتمل ہے جس سے پوراا شہر منسلک ہو جائے گا۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ منصوبے کے آغاز میں انہیں بی آر ٹی سے متعلق تحفظات تھے تاہم انہوں نے سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک کے اصرار پر منصوبہ جاری رکھا اور یہ ایک کامیاب  فیصلہ رہا۔

عمران خان نے کہا کہ پشاور بی آر ٹی کی ٹکٹیں 10 روپے سے 50 روپے کے درمیان رکھی گئی ہیں، جسے عام آدمی آسانی سے خرید سکتا ہے، طلباء کے لیے خصوصی ٹکٹیں فراہم کی جائیں گی، مسافروں کو سہولیات دینے کے لیے ہسپتالوں کو بی آر ٹی سے منسلک نہیں کیا گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق پشاور بی آر ٹی کی تعمیر پر 70 ارب روپے لاگت آئی ہے جس میں 27.5 کلومیٹر ٹریک، 31 سٹیشنز، سات فیڈر روٹس جو 62 کلومیٹر طویل اور 146 سٹاپس شامل ہیں۔

اس سے قبل منگل کو وزیر ثقافت شوکت یوسف زئی نے کہا تھا کہ کورونا وائرس کے باوجود وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے اپنی نگرانی میں بی آر ٹی پر 24 گھنٹے کام کو یقینی بنایا، جس کی وجہ سے منصوبہ مزید کسی تاخیر کے مکمل ہوا۔

انہوں نے کہا کہ “یہ ایک بڑا منصوبہ تھا جو شفاف طریقے سے مکمل کیا جا چکا ہے”۔

شوکت یوسف زئی نے دعویٰ کیا کہ کوئی بھی اس منصوبے میں کرپشن ثابت نہیں کر سکتا اور اگر خزبِ اختلاف کے پاس کرپشن کے کوئی ثبوت ہیں تو اسے سامنے لائیں وزیراعلیٰ خود کرپشن میں ملوث افراد کو سزا دیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ “پہلے دو لاکھ بی آر ٹی ZU کارڈز عوام میں مفت تقسیم کیے جائیں گے،عام شہریوں کے علاوہ خواتین اور طلباء کو بی آر ٹی سے زیادہ فائدہ ہو گا جو محفوظ اور آرام دہ سفر کریں گے”۔

مذکورہ منصوبہ درحقیقت سابق وزیر اعلیٰ کے پی پرویز خٹک کی جانب سے اکتوبر 2017 میں شروع کیا گیا تھا۔ اس وقت منصوبہ 49 ارب روپے لاگت سے چھ ماہ میں مکمل ہونے کی توقع کی گئی تھی۔

تاہم، ڈیزائن میں تبدیلی اور تاخیر سے 17 ارب روپے سے زیادہ منصوبے کی لاگت میں اضافہ ہوا جبکہ اس کی پہلی ڈیڈلائن بھی گزر گئی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here