اُدھار پر تیل کی فراہمی، پاکستان سعودی عرب کی جانب سے معاہدے کی تجدید کا منتظر

نومبر 2018 میں سعودی عرب نے پاکستان کے لیے 6.2 ڈالر کے پیکج کا اعلان کیا تھا جس میں اُدھار پر تیل کی فراہمی بھی شامل تھی، معاہدہ ختم ہونے پر ادھار تیل کی فراہمی بھی بند ہوگئی، معاہدے کے مطابق تاخیری ادائیگی پر تیل کی فراہمی کی مدت دو سال بڑھائی جاسکتی ہے۔

191

اسلام آباد: پاکستان اور سعودی عرب کے مابین تاخیری ادائیگی پر 3.2 ارب ڈالر کے تیل کی فراہمی کا معاہدہ دو ماہ پہلے ختم ہوچکا ہے اور ریاض کی جانب سے اس کی تجدید کا معاملہ التوا کا شکار ہے۔

3.2 ارب ڈالر کا اُدھار تیل دینے کا معاہدہ سعودی عرب کی جانب سے نومبر 2018 میں پاکستان کے لیے اعلان کیے گئے  6.2 ارب ڈالر کے پیکج کا حصہ تھا۔

اس پیکج کے تحت سعودی عرب نے اسٹیٹ بنک آف پاکستان میں تین ارب ڈالربھی رکھوائے تھے جس میں سے پاکستان نے اب  ایک ارب ڈالر ادائیگی کے وقت سے چار ماہ پہلے ہی واپس کردیے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے:

کورونا، چین کے مالیاتی خسارے میں ایک کھرب یوآن اضافہ، 3.76 کھرب ہو گیا

امریکی سینیٹرز کی سعودی عرب کو ڈرون طیاروں کی فروخت روکنے کی کوشش

صوبے کی آئل فیلڈز سے نکالے جانے والے تیل پر فی بیرل رائلٹی دی جائے : وزیراعلی خیبر پختونخوا

چہ میگوئیاں کی جارہی ہیں کہ ایسا دونوں ممالک کے تعلقات کشیدہ ہونے کی بنا پر کیا گیا ہےمگر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا اس حوالے سے نجی ٹی وی کے ٹاک شو میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کو یہ رقم تیل کی قیمتوں کی صورتحال کی وجہ سے اس کی گرتی ہوئی معیشت کے تناظر میں واپس کی گئی ہے۔

سعودی عرب کو اس رقم کی واپسی کے لیے ایک ارب ڈالر چین سے حاصل کیے گئے تھےاور ذرائع کا بتانا ہے کہ دوست ہمسائیہ ملک کی جانب سے مزید مالی مدد ملنے پر پاکستان سعودی عرب کے بقیہ دو ارب ڈالر بھی واپس کردے گا۔

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان معاہدے کے مطابق ادھار تیل کی فراہمی کو مدت میں دو سال کا اضافہ کیا جاسکتا ہے مگر سعودی حکومت  نے رواں برس مئی میں معاہدہ ختم ہونے کے بعد سے پاکستان کو ادھار پر تیل کی فراہمی بند کردی ہے۔

موجودہ حالات میں ایک طرف آئی ایم ایف پروگرام کی پانچ ماہ کے لیے معطلی اور دوسری طرف قرض ادائیگیوں نے پاکستان کو شدید معاشی دباؤ کا شکار کردیا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here