آزادانہ تجارت کیلئے کسٹمز رولز میں ترمیم

81

اسلام آباد: آزادانہ تجارت کے فروغ کے لیے حکومت نے اشیا اور کنٹینرز کی نقل و حمل سے قبل انٹرنیشنل ٹرانسشپمنٹ کی نگرانی کے لیے کسٹمز قوانین میں ترمیم متعارف کروا دی ہے۔

کسٹمز قوانین میں ترمیم غیرملکی بندرگاہ سے درآمد شدہ کارگو کی پاکستان میں کسی بھی بندرگاہ کے ذریعے ٹرانسشپمنٹ کی تجارتی سہولت کا حصہ ہے۔

چھوٹی بندرگاہوں میں ٹرانسشپمنٹ کی آزادانہ تجارت اہم کردار ادا کرتی ہے جہاں بندرگاہوں میں محدود انفراسٹرکچر یا شپنگ لائنز کی وجہ سے اکثر رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پاکستانی بندرگاہوں پر عالمی ٹرانسشپمنٹ کے فروغ اور حوصلہ افزائی کے لیے محکمہ کسٹمز نے کنٹینرز کی آزادانہ تجارت کو سہولیات دینے کے لیے اپنے قوانین میں مزید ترمیم کی ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے 42 اور پاکستان کسٹمز کے 17 افسران تین ماہ کے لیے معطل

ایف بی آر نے برآمد کنندگان کے بینک اکاؤنٹ میں کسٹمز ڈیوٹی ڈرابیک کی آن لائن ادائیگی کے لئے سسٹم متعارف کرادیا 

ترمیم کے مطابق عالمی ٹرانسشپمنٹ کی اشیا پر درآمدی یا برآمدی ڈیوٹیز عائد نہیں کی جائیں گی اور ٹیکسز ان سرگرمیوں کے مطابق فراہم کیے جائیں گے۔ تاہم، شپنگ لائن انٹرنیشنل ٹرانسشپمنٹ کی سہولت استعمال کرنے کی غرض سے اشیا کی مالیت کی مساوی رقم بطور شورٹی بانڈ ادا کرے گی، یہ مصنوعات ملک سے باہر بھیجنے کے لیے سکیورٹی کے طور پر 30 دن میں درآمد کیا جائے گا۔

 شپنگ لائن کے انٹرنیشنل ٹرانسشپمنٹ کی سہولت کے غلط استعمال کی صورت میں محکمہ کسٹمز قوانین کے تحت مذکورہ بانڈز ضبط کرلیے جائیں گے۔ محکمہ کسٹمز کی جانب سے شپنگ لائن یا اس کے کارندے کو دیے گئے دورانیے میں شپمنٹ میں ناکامی کی صورت میں ایک نوٹس بھیجا جائے گا۔ اسسٹنٹ کلیکٹر اشیا کی ٹرانسشپمنٹ میں تاخیر کی صورت میں 30 دنوں کی توسیع دے سکتا ہے۔

60 دنوں کے بعد شپنگ لائن بندرگاہوں سے ان مصنوعات کو ہٹانے کی ذمہ دار ہو گی۔ متعلقہ کسٹمز کلیکٹر کی منظوری سے اشیا کی نیلامی یا تلف کرنے کی اجازت دی جائے گی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here