روسی تیل کی درآمد، چینی بینک نے پاکستان کیلئے لیٹر آف کریڈٹ کا اجراء کر دیا

376
KSA extends $1.2b deferred oil payment facility till Feb 2024

اسلام آباد: روس سے خام تیل کے پہلے کارگو کی درآمد کے لیے بینک آف چائنا نے پاکستان کیلئے لیٹر آف کریڈٹ (ایل سی) کا اجراء کر دیا۔ کارگو کی آمد مئی کے آخری ہفتے میں متوقع ہے۔

ذرائع کے مطابق چینی بینک میں ایل سی روسی تیل کے کارگو کی ادائیگی کے لئے کھولی گئی ہے۔ یہ پاکستان کی طرف سے  چینی یوآن میں روسی تیل کی پہلی خریداری ہے۔ روس ایک لاکھ ٹن خام تیل کا کارگو بھیجے گا۔

اس وقت پاکستان دیگر ممالک سے خام تیل فری آن بورڈ (ایف او بی) کی بنیاد پر درآمد کر رہا ہے جس کا مطلب ہے کہ ریفائنریز خام تیل کی قیمت ادا کرتی ہیں جس کے بعد وہ بندرگاہ پر پہنچتا ہے۔

تاہم روس سے تیل لاگت، انشورنس اور فریٹ (سی آئی ایف) کی بنیاد پر درآمد کیا جا رہا ہے جس کا مطلب ہے کہ پاکستان اپنی بندرگاہ پر کارگو پہنچنے کے بعد ادائیگی کرے گا۔

اگرچہ روسی تیل کی ادائیگی یوآن میں ہو گی لیکن اس سے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر پر بوجھ پڑے گا۔ اس حوالے سے باخبر حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان متحدہ عرب امارات یا سعودی عرب کی کرنسیوں میں بھی روسی تیل درآمد کر سکتا تھا کیونکہ یہ دونوں کرنسیاں پاکستان کے پاس موجود تھیں۔ اس کے برعکس یوآن پاکستان میں دستیاب نہیں اور یہ خریدنا پڑیں گے۔ نتیجتاً پاکستان کو ایسے وقت میں چینی کرنسی خریدنے کیلئے امریکی ڈالر کا بندوبست کرنا پڑے گا جب زرمبادلہ ذخائر پہلے ہی کم ترین سطح پر ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: 

پاکستان نے روس سے رعایتی نرخوں پر تیل خریداری کا پہلا آرڈر دے دیا

مہنگائی کے ستائے پاکستانی سستا ایرانی تیل خریدنے پر مجبور، مقامی ریفائنریوں کیلئے خطرے کی گھنٹی

ابتدائی طور پر ماسکو نے تین کرنسیوں متحدہ عرب امارات کے درہم، چینی یوآن اور روسی روبل میں ادائیگی کرنے کا اختیار دیا تھا۔ یوآن میں ادائیگی کا فیصلہ روس پر امریکی پابندیوں کے تناظر میں کیا گیا ہے۔

پاکستان پلیٹس پرائس انڈیکس (Platts Price Index) کی پیروی کرتا ہے، اس لیے روسی خام تیل پر 16 سے 18 ڈالر فی بیرل کی رعایت ملنے کی امید ہے۔

ذرائع کے مطابق روسی خام تیل کے معیار اور اس سے بننے والی پٹرولیم مصنوعات کی جانچ کیلئے پاکستان ریفائنری لمیٹڈ (پی آر ایل) کو بھیجا جائے گا۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین ملنے والی رعایتوں بشمول مال برداری کے اخراجات کی بنیاد پر کیا جائے گا۔

تاحال پاکستانی ریفائنریز میں عرب لائٹ کو صاف کر کے پٹرولیم مصنوعات کی صورت میں مارکیٹ کو فراہم کیا جا رہا ہے۔ روسی تیل سے بننے والی مصنوعات کا تناسب مختلف ہو گا جس سے قیمتوں میں بھی فرق آئے گا۔ ذرائع کے مطابق عرب لائٹ خام تیل کی پروسیسنگ سے 45 فیصد ہائی سپیڈ ڈیزل اور 25 فیصد فرنس آئل پیدا ہوتا ہے جبکہ روسی خام تیل سے 32 فیصد ہائی سپیڈ ڈیزل اور 50 فیصد فرنس آئل پیدا ہو گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کم تناسب کی وجہ سے پاکستان کو روس سے زیادہ رعایت لینے کی ضرورت ہو گی۔

تاہم پاکستان ریفائنری لمیٹڈ کی جانب سے ڈیزل، پیٹرول اور فرنس آئل کے پیداواری تناسب سمیت دیگر ٹیسٹوں کی رپورٹ ملنے کے بعد حکومت حتمی فیصلہ کرے گی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here