جے سی سی کا 10واں اجلاس، سی پیک کے دوسرے مرحلے کیلئے مختلف معاہدوں پر دستخط

آپریشنل مسائل حل کرنے کیلئے سٹیئرنگ کمیٹی بنانے، ذیلی منصوبوں کی سکیورٹی کیلئے وزارت داخلہ میں خصوصی سکیورٹی سیل کے قیام، آئی ٹی کا جوائنٹ ورکنگ گروپ شروع کرنے کا فیصلہ، چینی پاور پروڈیوسرز کو واجبات کی جلد ادائیگی کی یقین دہانی

519

اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات اسد عمر نے کہا ہے کہ چینی سرمایہ کاری بڑھنے سے سکیورٹی کی اہمیت بڑھتی جا رہی ہے، سی پیک ہمسایہ ملک کی آنکھوں میں کھٹکتا ہے، اس لیے اس کے ذیلی منصوبوں کو بھی سی پیک جتنی سکیورٹی ہی دی جائے گی۔

جمعرات کو سی پیک کی جوائنٹ کوآپریشن کمیٹی (جے سی سی) کے 10ویں اجلاس کے بعد وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سی پیک امور خالد منصور کے ہمراہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسد عمر کا کہنا تھا کہ چین کے ساتھ انفارمیشن ٹیکنالوجی سمیت دیگر معاہدوں پر وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی سید امین الحق اور ان کے چینی ہم منصب نے دستخط کیے ہیں، انفارمیشن ٹیکنالوجی کا جوائنٹ ورکنگ گروپ شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

Image

ان کا کہنا تھا کہ ہماری معیشت میں زراعت اس لحاظ سے سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے کیونکہ دو تہائی آبادی کا زراعت پر بالواسطہ یا بلاواسطہ انحصار ہے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پاک چین اقتصادی راہداری بہت اہمیت کی حامل ہے، دونوں ملکوں کی نے سی پیک کو واضح اہمیت دینے کی ہدایت دی ہے، سی پیک کے کچھ نئے معاہدے اور ایک نیا جوائنٹ ورکنگ گروپ بنایا گیا ہے۔

اسد عمر کا کہنا تھا کہ جے سی سی میں کراچی سرکلر ریلوے کا ذکر ہوا، وزیراعظم جلد کے سی آر انفراسٹرکچر منصوبے کا افتتاح کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں چینی سرمایہ کاری بڑھنے سے امن و امان کی اہمیت بڑھتی جا رہی ہے، داسو واقعہ میں ملوث لوگوں کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا۔ سی پیک ہمسایہ ملک کی آنکھوں میں کھٹکتا ہے۔

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ پچھلے ایک ماہ میں سی پیک پروجیکٹس کی سکیورٹی کے لیے جامع حکمت بنائی گئی ہے اور اسے عملی جامہ پہنانے کے لیے وزارت داخلہ میں خصوصی سیل بھی بنایا گیا ہے۔

جے سی سی کا اجلاس

قبل ازیں سی پیک کی مشترکہ تعاون کمیٹی (جے سی سی) کے دسویں اجلاس کے افتتاحی سیشن کی صدارت وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر اور ین کے وائس چیئرمین این ڈی آر سی ننگ جزہی نے مشترکہ طور پر کی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسدعمر نے کہا کہ مشترکہ تعاون کمیٹی سی پیک سے متعلق چین اور پاکستان کے درمیان فیصلہ سازی کا اہم فورم ہے، یہ اجلاس سی پیک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے اور اسے وسعت دینے کی راہ ہموار کرے گا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ کئی چیلنجز کے باوجود پاکستان اور چین کی قیادت سی پیک کو جاری رکھے ہوئے ہے، سی پیک کے جنوبی زون سے پاکستان میں وسیع غیر ملکی سرمایہ کاری آئے گی، پہلے مرحلے کی تکمیل دونوں ملکوں کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون کا مظہر ہے۔

Image

اسد عمر نے کہا کہ سی پیک کے تحت بلوچستان میں بہت سے منصوبے جاری ہیں، ایم ایل وَن ریلوے کی ترقی کا ایک اہم منصوبہ ہے، اسی طرح سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبہ میں دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ تعاون کے حوالہ سے بہت سی توقعات ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سی پیک کے تحت مختلف منصوبوں پرکام کرنے والے چینی ورکرز کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے، پاکستان میں کام کرنے والے چینی ورکرز کو بہترین سکیورٹی مہیا کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سی پیک منصوبوں کے ثمرات فوری عوام تک پہنچانے کیلئے پرعزم ہیں۔ اس کے آپریشنل مسائل کو حل کرنے کے لیے ایک اعلیٰ سطح کی سٹیئرنگ کمیٹی تشکیل دی جا رہی ہے جس میں دونوں ملکوں کے حکام شامل ہوں گے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ سی پیک کے دوسرے مرحلے میں صنعتی اور زرعی شعبوں میں ترقیاتی منصوبوں پر کام تیزی سے جاری ہے، سی پیک اتھارٹی میں چینی سرمایہ کاروں کے لیے سہولت مرکز قائم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان نے توانائی کے شعبے میں جامع اصلاحات متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ چینی پاور پروڈیوسرز کو واجبات کی ادائیگی کیلئے راہ ہموار کی جا سکے، حکومت اس حوالے سے سخت فیصلے کرنے جا رہی ہے اور چینی آئی پی پیز کے نمائندوں کو یقین دلاتے ہیں کہ اس معاملے کو جلد حل کر لیا جائے گا۔

اس موقع پر چین کے قومی ترقیاتی اصلاحات کمیٹی کے وائس چیئرمین ننگ جزہی نے کہا کہ سی پیک پاکستان میں اعلیٰ معیار کے ترقیاتی منصوبوں کے ساتھ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی) کا اہم منصوبہ ہے۔

سیکرٹری بورڈ آف انویسٹمنٹ (بی او آئی) فارینہ مظہر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بڑھانے کے لیے سی پیک کے تحت تیسرے ملک کی شرکت کی راہ بھی ہموار کی جائے گی، سرمایہ کاری بورڈ نے چائنا کونسل فار انٹرنیشنل انویسٹمنٹ پروموشن (سی سی آئی آئی پی) کے ساتھ مل کر پاکستان چائنا بزنس ٹو بزنس (بی 2 بی) انویسٹمنٹ پورٹل قائم کیا ہے تاکہ ملک میں ممکنہ مشترکہ منصوبوں کے لیے پاکستانی اور چینی کاروباروں کو اکٹھا کیا جا سکے۔

واضح رہے کہ جے سی سی کا  دسواں اجلاس وزیر منصوبہ بندی اسد عمر اور چینی وائس چیئرمین این ڈی آر سی ننگ جزہی کی مشترکہ چیئرمین شپ کے تحت منعقد ہو رہا ہے۔ جے سی سی عام طور پر ہر سال منعقد ہوتا تھا تاہم کورونا وائرس کی وبا کے پھیلنے کی وجہ سے 20 ماہ کے وقفے کے بعد منعقد کیا جا رہا ہے۔

اسی طرح حالیہ اجلاس میں پاکستان اور چین کی حکومتوں کے درمیان سماجی اقتصادی ترقی کے بارے میں دوسری جے ڈبلیو جی کی میٹنگ کے منٹ پر بھی دستخط کیے جائیں گے، دونوں فریق بلوچستان سولر پاور لائٹنگ آلات کی فراہمی اور طبی آلات اور مواد کی فراہمی کے معاہدوں پر دستخط کریں گے، گوادر ایکسپو سینٹر کے لیز ڈیڈ پر دستخط کریں گے، ننگبو بندرگاہ اور گوادر بندرگاہ کے مابین تعاون کے فریم ورک معاہدے اور کراچی کوسٹل ڈویلپمنٹ زون کے حوالے سے بھی مفاہمتی یادداشت کا بھی اعلان کیا جائے گا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here